رسائی کے لنکس

لودھراں میں کامیابی عوام کا ردِ عمل ہے: نواز شریف


فائل فوٹو

سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ احتساب کے نام پر ان سے انتقام لیا جارہا ہے لیکن عوام ان کے خلاف جھوٹے مقدمات اور سازشوں کا اپنے ووٹ سے جواب دے رہے ہیں۔

سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے کہا ہے کہ لودھراں کے ضمنی انتخاب میں ان کی جماعت کے امیدوار کی کامیابی احتساب کے نام پر ہونے والے انتقام کا عوامی ردِ عمل ہے۔

منگل کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ ان کا مقدمہ اب پاکستان کے عوام لڑ رہے ہیں۔ احتساب کے نام پر ہم سے انتقام لیا جارہا ہے لیکن عوام کا ردِ عمل عیاں ہے جو ہمارے خلاف جھوٹے مقدمات اور سازشوں کا اپنے ووٹ سے جواب دے رہے ہیں۔

پیر کو لودھراں میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار نے غیر متوقع طور پر ایک لاکھ 13 ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ یہ نشست تحریکِ انصاف کے جنرل سیکریٹری جہانگیر خان ترین کی نا اہلی سے خالی ہوئی تھی جس پر ضمنی انتخاب میں ان کے صاحب زادے پی ٹی آئی کے امیدوار تھے۔

منگل کو احتساب عدالت میں سابق وزیرِ اعظم اپنی صاحب زادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے ہمراہ پیش ہوئے جہاں ان کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ریفرنسز کی سماعت ہوئی۔

سپریم کورٹ کے پاناما پیپرز کیس کے حتمی فیصلے میں دی گئی ہدایات کی روشنی میں نیب کی جانب سے نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں کے خلاف تین ریفرنسز دائر کیے گئے تھے جب کہ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا نام ایون فیلڈ ایونیو میں موجود فلیٹس سے متعلق ریفرنس میں شامل ہے۔

نواز شریف کے خلاف دائر تینوں ریفرنسز میں اب تک مجموعی طور پر 39 میں سے 24 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

منگل کو جب سماعت شروع ہوئی تو مريم نواز کے وکيل امجد پرويز نے کارروائي ملتوی کرنے کی استدعا کی اور مؤقف اختيار کيا کہ عاصمہ جہانگیر کی وفات کے باعث وکلا تین روزہ سوگ منا رہے ہیں۔

عدالت نے کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا منظور کرلی اور جس کے باعث استغاثہ کے چار گواہوں کے بيانات قلم بند نہ ہو سکے۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں شکوہ کيا کہ گواہ آ رہے ہیں ليکن شہادتیں ریکارڈ نہیں ہو رہیں۔

دورانِ سماعت احتساب عدالت کے جج نے استفسار کيا کہ ویڈیو لنک پر گواہوں کا بیان کب قلم بند کرنا ہے۔ وکيل امجد پرويز نے بيانات ريکارڈ کرنے کے انتظامات کے لیے 14 روز کا وقت مانگا۔

عدالت نے لندن میں موجود غیرملکی گواہوں کے لندن فلیٹس ریفرنس میں بیان قلم بند کرنے کے لیے 22 فروری کی تاریخ مقرر کردی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز نے 19 فروری سے دو ہفتوں کے لیے حاضری سے استشنیٰ کی درخواست دائر کر دی ہے جس میں مؤقف اختيار کيا گیا کہ کلثوم نواز کی طبیعت ناساز ہے اور ان کی تیماداری کے لیے انہیں لندن جانا ہے۔

عدالت نے درخواست سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے نيب کو نوٹس جاری کر ديا ہے۔

عدالت نے استغاثہ کے چاروں گواہوں کو آئندہ سماعت کے لیے طلبی کے سمن جاری کرتے ہوئے سماعت 15 فروری تک ملتوی کر دی ہے۔

پیشی کے بعد احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خدمت کرنے والوں سے انتقام لیا جا رہا ہے اور ان کے خلاف سارا زور لگایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنہوں نے نیب سے ریفرنسز بنوائے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ نواز شریف کو کسی نہ کسی طرح سزا ہوجائے۔ انہیں سزا دینے کے لیے ضمنی ریفرنس تیار کیے جارہے ہیں، حالانکہ موجودہ ریفرنس میں جان ہوتی یا کوئی ثبوت اور سچائی ہوتی تو ضمنی ریفرنس کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔

سابق وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ کس بات کا انتقام لیا جارہا ہے لیکن کل لودھراں کا الیکشن جھوٹے مقدمات کا جواب ہے۔ ان کے بقول ہم سے انتقام لینے والوں سے عوام نے کل لودھراں میں انتقام لیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG