رسائی کے لنکس

logo-print

ایون فیلڈ ریفرنس، فیصلہ جمعے کو سنایا جائے گا: عدالت


فائل

احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف ’ایون فیلڈ ریفرنس‘ کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جو جمعہ 6 جولائی کو سنایا جائے گا۔

احتساب عدالت نے ملزمان کو جمعے کو پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کر دئیے ہیں اور فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ نواز شریف اور مریم کی حاضری سے سات روزہ استثنیٰ کی درخواست مسترد کردی گئی ہے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف، مریم نواز، کپیٹن صفدر، حسن اور حسین نواز کے خلاف نیب کی جانب سے دائر لندن فلیٹس ریفرنس میں استغاثہ اور دفاع کے دلائل مکمل ہوگئے۔ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے منگل کو اپنے دلائل مکمل کیے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کیس کی سماعت کی۔

فیصلہ محفوظ ہونے سے قبل اپنے حتمی دلائل میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ملزمان کے حق میں دستیاب دستاویزات رپورٹ میں شامل نہیں، جبکہ شامل دستاویزات مصدقہ اور معتبر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے پورے خاندان کو پھنسانے کیلئے یکطرفہ، جانبدارانہ اور بدنیتی پر مبنی تفتیش کی۔ ایم ایل ایز کے معاملے میں دفتر خارجہ کو بائی پاس کر کے شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیا گیا۔ استغاثہ ٹھوس شواہد پیش کرنے اور الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ حتمی دلائل میں امجد پرویز نے کہا کہ فورنزک ماہر رابرٹ ولیم ریڈلے فونٹ کے ماہر نہیں ہیں۔

امجد پرویز نے کہا کہ اے جی آفس کا خط بھی تصدیق شدہ نہیں تھا، واجد ضیا کو بھی پتہ نہیں تھا کہ یہ خط والیم 4 میں موجود تھا۔ لیکن انہوں نے کہا کہ ہم سے خط رہ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی وی آئی حکام نے 31 مئی کی ایم ایل اے کا جواب دینے سے انکار کیا اور یہ حقیقت اب تک چھپائی گئی ہے۔

مریم نواز کے وکیل کی جانب سے بھارتی عدالتی فیصلوں کے حوالے بھی دیے گئے۔

پاناما لیکس کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے نواز شریف اور بچوں کیخلاف 8 ستمبر 2017 کو ریفرنس دائر کیا۔ مزید شواہد سامنے آنے پر نیب نے 22 جنوری 2018 کو کیس میں ضمنی ریفرنس دائر کیا گیا

لندن فلیٹس ریفرنس جسے ایون فلیڈ ریفرنس بھی کہا جاتا ہے اس میں مجموعی طور پر 18 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ لندن سے بھی 2 گواہوں کے بیانات ویڈیو لنک پر رکارڈ کیے گئے۔ تمام گواہ استغاثہ کے تھے جن میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء بھی شامل تھے۔

احتساب عدالت نے تقریبا ساڑھے نو ماہ تک ریفرنس پر 90 سے زائد سماعتیں کیں۔ 19 ستمبر کو پہلی پیشی پر نوازشریف غیرحاضر رہے۔ 26 ستمبر کو نوازشریف پہلی بار عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ اس روز عدم حاضری پر کپیٹن (ر) صفدر، مریم نواز، حسن اور حسین نواز کے قابل ضمانت وارنٹ جاری ہوئے۔

مریم نواز پہلی بار 9 اکتوبر کو احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئیں۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ائیر پورٹ سےگرفتار کرکے عدالت پیش کیا گیا۔ 50 لاکھ روپے کے علیحدہ علیحدہ ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بعد ضمانت ہوئی۔ اسی روز حسن اور حسین نواز کا مقدمہ دیگر ملزمان سے الگ کرکے انہیں اشتہاری قرار دے دیا گیا۔

19 اکتوبر کو نواز شریف، مریم نواز، کپیٹن صفدر پر فرد جرم عائد کی گئی۔ 6 دسمبر 2017 سے 7 مئی 2018 تک گواہوں کے بیان قلمبند کیے گئے اور جرح مکمل کی گئی۔ 13 مارچ کو ٹرائل مکمل کرنے کی 6 ماہ کی ڈیڈ لائن ختم ہونے پر احتساب عدالت کو سپریم کورٹ نے مذید تین ماہ کی مہلت دی۔ 9 مئی کو دوبارہ ٹرائل مکمل کرنے کی مہلت میں ایک ماہ کا اضافہ کیا گیا۔

24 مئی کو نواز شریف نے 4 سماعتوں بعد 128 سوالات کا جواب دیا۔ 25 مئی سے 28 مئی تک مریم نواز 29 اور 30 مئی کو کپیٹن صفدر نے اپنا بیان مکمل کروایا۔ 11جون 2018کو حتمی دلائل کی تاریخ سے ایک دن پہلے نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کیس سے الگ ہوگئے۔ 19جون کو خواجہ حارث احتساب عدالت پہنچے اور دستبرداری کی درخواست واپس لے لی تھی۔ 27 جون کو 7 سماعتوں کے بعد وکیل صفائی نے حتمی دلائل مکمل کیے۔ 28 جون سے جولائی 3 تک مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے حتمی دلائل دئیے اور 9 مہینے اور 20دن سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG