رسائی کے لنکس

logo-print

'مجھے مشرف کے خلاف غداری کیس چلانے پر نکالا گیا'


نواز شریف اسلام آباد میں ایک تقریب میں شریک ہیں (فائل فوٹو)

سابق وزیرِ اعظم نے دعویٰ کیا کہ پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے کی کوشش پر انہیں پیغام دیا گیا تھا کہ وزارتِ عظمی سے مستعفی ہوجاؤ یا طویل چھٹی لے کر باہر چلے جاؤ۔ لیکن ان کے بقول انہوں نے مشرف کا کیس روکنے کے لیے کوئی دباؤ قبول نہیں کیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں وزارتِ عظمیٰ سے نکالے جانے کی بڑی وجہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کی کوشش تھا۔

بدھ کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں لندن فلیٹس ریفرنس میں اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم نے دعویٰ کیا کہ پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے کی کوشش پر انہیں پیغام دیا گیا تھا کہ وزارتِ عظمی سے مستعفی ہوجاؤ یا طویل چھٹی لے کر باہر چلے جاؤ۔ لیکن ان کے بقول انہوں نے مشرف کا کیس روکنے کے لیے کوئی دباؤ قبول نہیں کیا۔

استغاثہ کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالات کا جواب دیتے ہوئے نواز شریف نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنا گھر درست کرنے اور اپنے آپ کو سنوارنے کی بات کی۔

ان کے بقول میں نے خارجہ پالیسی کو نئے رُخ پر استوار کرنے کی کوشش کی۔ میں نے سرجھکا کر نوکری کرنے سے انکار کیا۔ آصف زرداری کے ذریعے مجھے پیغام دیا گیا کہ پرویز مشرف کے دوسرے مارشل لا کو پارلیمانی توثیق دی جائے لیکن میں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔

سابق وزیرِ اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ میرے خلاف مقدمہ کیوں بنایا گیا، قوم جانتی ہے۔ مقدمات کا کھیل کھیلنے والے بھی جانتے ہیں۔ مجھے بے دخل کرنے اور نااہل قرار دینے والے کچھ لوگوں کو تسکین مل گئی ہوگی۔ مجھے سِسیلین مافیا، گاڈ فادر، وطن دشمن اور غدار کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں پاکستان کا بیٹا ہوں۔ اس مٹی کا ایک ایک ذرہ جان سے پیارا ہے۔ کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا توہین سمجھتا ہوں۔

سابق وزیرِ اعظم نے احتساب عدالت میں اپنے بیان میں کہا کہ 12 اکتوبر کو پرویز مشرف نامی جرنیل نے اقتدار پر قبضہ کیا تو سب نے آگے بڑھ کر مشرف کا استقبال کیا۔ پرویز مشرف نے آٹھ سال بعد دوبارہ آئین توڑا اور ایمرجنسی کے نام پر مارشل لا لگایا۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو نظر بند کیا جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت ن لیگ نے اس معاملے پر واضح مؤقف اپنایا اور آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ دائر کیا۔

اپنے بیان مین سابق وزیرِ اعظم نے دعویٰ کیا کہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس قائم کرتے ہی مشکلات اور دباؤ بڑھادیا گیا۔ سنہ 2014 میں حکومت کے خلاف دھرنے کرائے گئے۔ ان دھرنوں کا مقصد مجھے دباؤ میں لانا تھا۔ کہا گیا کہ امپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے۔ کون تھا وہ امپائر؟ وہ جو کوئی بھی تھا اس کی پشت پناہی دھرنوں کو حاصل تھی۔

نوازشریف نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی وی، پارلیمنٹ، وزیرِ اعظم ہاؤس اور ایوانِ صدر بھی فسادی عناصر سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اس کا مقصد تھا کہ مجھے پی ایم ہاؤس سے نکال دیں اور پرویز مشرف کے خلاف کارروائی آگے نہ بڑھے۔ منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ میں دباؤ میں آجاؤں گا۔

نوز شریف احتساب عدالت میں پیشی کے لیے آرہے ہیں (فائل فوٹو)
نوز شریف احتساب عدالت میں پیشی کے لیے آرہے ہیں (فائل فوٹو)

سابق وزیرِ اعظم نے انکشاف کیا کہ دھرنوں کے دوران ایک خفیہ ادارے کے سربراہ کا پیغام پہنچایا گیا کہ مستعفی ہوجاؤ یا طویل رخصت پر چلےجاؤ۔ طویل رخصت کا مطالبہ اس تاثر کی بنیاد پر تھا کہ نواز شریف کو راستے سے ہٹادیا گیا۔ جو کچھ ہوا سب قوم کے سامنے ہے۔ اب یہ باتیں ڈھکا چھپا راز نہیں ہیں۔

سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل قرار دیے جانے والے سابق وزیرِ اعظم نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سارے ہتھیار اہلِ سیاست کے لیے بنے ہیں۔ جب بات فوجی آمروں کے خلاف آئے تو فولاد موم بن جاتا ہے۔ پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ شروع ہوتے ہی اندازہ ہوگیا کہ آمر کو کٹہرے میں لانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ انصاف کے منصب پر بیٹھے جج پرویز مشرف کو ایک گھنٹے کے لیے بھی جیل نہ بھجوا سکے۔

اپنے بیان میں نواز شریف نے کہا کہ میری نااہلی اور پارٹی صدارت سے ہٹانے کے اسباب و محرکات کو قوم بھی اچھی طرح جانتی ہے۔ کیا میرے خلاف فیصلہ دینے والے ججوں کو مانیٹرنگ جج لگایا جا سکتا ہے؟ کیا کسی لفظ کی تشریح کے لیے گمنام ڈکشنری استعمال کی جاتی ہے؟ کیا کسی سپریم کورٹ کے بینچ نے جے آئی ٹی کی نگرانی کی؟ کیا کسی نے اقامے پر مجھے نااہل کرنے کی درخواست دی تھی؟ یہاں جتنے گواہان پیش ہوئے، کسی نے گواہی نہیں دی کہ میں نے کوئی جرم کیا۔ آپ اورمجھ سمیت سب کو اللہ کی عدالت میں پیش ہونا ہے۔ ریفرنس کا فیصلہ آپ پر چھوڑ رہا ہوں۔

آج کے بیان کے بعد لندن فلیٹس ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم نے استغاثہ کی جانب سے پوچھے جانے والے تمام 128 سوالوں کے جوابات دے دیے ہیں۔

بدھ کو احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران نواز شریف کی جانب سے ایک متفرق درخواست بھی دائر کی گئی جس میں انہوں نے باقی 5 سوالوں کا جواب دیگر دو ریفرنسز میں گواہان کے بیانات مکمل ہونے کے بعد ریکارڈ کرنے کی استدعا کی تھی۔

نواز شریف کی درخواست پر نیب پراسیکیوٹر نے اعتراض کیا جس پر عدالت نے درخواست مسترد کردی اور تمام سوالات کا جواب ریکارڈ کیا۔

اپنے بیان میں نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ عدالت اس پر غور کرے کہ پراسرار کہانی کیا کہہ رہی ہے۔ مائنس ون کا اصول طے پا جائے تو اقامے جیسا بہانہ کافی ہوتا ہے۔ میرا گناہ صرف یہ ہے کہ پاکستان کی بھاری اکثریت مجھے چاہتی ہے۔ آئین کے تحت حاکمیت رہنی چاہیے اور میں بھی اسی راستے کا سپاہی ہوں۔ عوام پر اپنی مرضی مسلط نہ کریں۔ ادارے طے شدہ حدود میں رہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطرناک قیدیوں کی طرح مجھے زنجیروں سے طیارے کی سیٹ پر باندھا گیا۔ میرا طیارہ واپس پاکستان آیا تو ہوائی اڈے سے ہی واپس کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ریفرنس میں 70 سے زائد پیشیاں بھگت چکا ہوں۔ جس پٹیشن کو دو بار ناکارہ اور فضول قرار دیا گیا اسے کیسے معتبر کر دیا گیا؟ کیا جے آئی ٹی کے لیے واٹس ایپ کال، مخصوص افراد کا تقرر نہیں کیا گیا۔ کیا ماضی میں سپریم کورٹ کے کسی جج نے جے آئی ٹی کی نگرانی کی۔ جو جج میرے خلاف فیصلہ دے چکا اسے ہی نگران جج بنا دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دیکھنا ہوگا 28 جولائی 2017ء کے فیصلے نے ملک کو کیا دیا۔ سیاسی عدم استحکام اور بے یقینی کی صورتِ حال کو ہوا دی گئی۔ فیصلے سے عدلیہ اور نظامِ قانون کو کیا ملا؟ سینیٹ میں امیدواروں کو شیر کے نشان کے بجائے بے چہرہ کیا گیا۔

پاناما پیپرز کیس کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے حکم پر قومی احتساب بیورو (نیب) نے نواز شریف اور ان کے بچوں حسن نواز، حسین نواز اور مریم نواز کے ساتھ ساتھ داماد کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز، ہلز میٹل اسٹیبلشمنٹ اور لندن میں ایون فیلڈ فلیٹس سے متعلق تین ریفرنسز دائر کیے تھے۔

ان ریفرنسز کے علاوہ نیب کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف کئی ضمنی ریفرنسز بھی دائر کیے گئے ہیں جن کی سماعتیں احتساب عدالت اسلام آباد میں جاری ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG