رسائی کے لنکس

logo-print

نواز شریف جیل سے رہا، جاتی امرا پہنچ گئے


فائل فوٹو

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو طبی بنیادوں پر ضمانت پر رہائی کے حکم کے بعد لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔

نواز شریف کو طویل انتظار کے بعد منگل اور بدھ کی درمیانی شب رہا کیا گیا۔ رات ڈھلنے کے باوجود جیل کے باہر موجود مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے نواز شریف کا استقبال کیا۔

نواز شریف کی ضمانت ہر رہائی کی خبر سنتے ہی لیگی کارکن کوٹ لکھپت جیل کے باہر جمع ہو گئے تھے اور نواز شریف کے حق میں نعرے بازی شروع کر دی تھی۔

ضمانت پر رہائی کے لئے ضروری دستاویز روبکار لے کر مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما سردار ایاز صادق اور طارق فضل چوہدری کوٹ لکھپت جیل پہنچے جس کے بعد نواز شریف کو رہا کر دیا گیا۔

نواز شریف کو سخت سیکورٹی حصار میں جیل سے ان کی رہائش گاہ جاتی عامرا منتقل کیا گیا۔

مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ آج تاریخی دن یے مسلم لیگ ن کے کارکن بہت خوش ہیں۔

مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ اچھا ہوتا نواز شریف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت بھی مل جاتی۔ کلثوم نواز کی وفات کے بعد وہ اپنے تین بچوں سے نہیں ملے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو گذشتہ سال 24 دسمبر کو راولپنڈی کی احتساب عدالت نے العزیزیہ سٹیل مل کیس میں 7 سال کی قید سنائی تھی۔

نواز شریف کو 25 دسمبر کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا تھا جہاں جنوری کے تیسرے ہفتے میں ان کی بیماری کی خبریں سامنے آئی تھیں۔

اس عرصے میں نواز شریف اپنے طبی معائنے کے لئے لاہور کے مختلف سرکاری ہسپتال میں زیر علاج رہے۔ اس دوران نواز شریف نے طبی بنیادوں پر رہائی کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جو مسترد ہوگئی تھی۔

نواز شریف نے حکومت کی جانب سے ان کے علاج پر غیر سنجیدہ رویے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کو ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال گھمایا جا رہا ہے جو ان کی تذلیل ہے۔

نواز شریف نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جہاں سے انہیں طبی بنیادوں پر 6 ہفتے کے لئے ضمانت ملی۔ تاہم، عدالت نے انہیں ملک سے باہر جانے سے روک دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG