رسائی کے لنکس

logo-print

نواز شریف کی ضمانت کی درخواست، سماعت 26 مارچ تک ملتوی


فائل فوٹو

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر قومی احتساب بیورو (نیب) کو نوٹس جاری کردیا ہے اور کہا ہے کہ آئندہ سماعت پر درخواست کا فیصلہ کردیا جائے گا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست کی سماعت کی۔

اس موقع پر سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور سابق وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب سمیت مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ نواز شریف کے لیے پانچ مختلف میڈیکل بورڈ بنائے گئے۔ پہلا میڈیکل بورڈ 17 جنوری کو بنا جو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ماہرین پر مشتمل تھا۔ دوسری میڈیکل رپورٹ جناح اسپتال کے ڈاکٹرز کی آئی۔ تیسری میڈیکل رپورٹ 30 جنوری 2019ء، چوتھی رپورٹ سروسز اسپتال کی 5 فروری کو جب کہ پانچویں میڈیکل رپورٹ بھی جناح اسپتال کی طرف سے ہی آئی۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ 15 جنوری کو نواز شریف نے بازو اور سینے میں درد کی شکایت کی تھی۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف کی میڈیکل ہسٹری کیا ہے؟ پندرہ جنوری سے پہلے نواز شریف کی صحت کیسی تھی؟ عدالت درد سے پہلے اور بعد کی رپورٹس کا موازنہ کرے گی۔ میڈیکل رپورٹس دیکھنے کا مقصد نواز شریف کی صحت کا جائزہ لینا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف کی عارضۂ قلب، گردے، شوگر اور ہائیپر ٹینشن کی ہسٹری ہے۔ پہلی رپورٹ میں نواز شریف کی عمر 65 سال لکھی گئی جب کہ دوسری رپورٹ میں عمر 69 سال لکھ دی گئی۔ چند دنوں میں ہی عمر چارسال بڑھا دی گئی۔ دوسری رپورٹ میں کہا گیا کہ نواز شریف ہائیپر ٹینشن کے مریض رہے۔ دوسری رپورٹ میں نواز شریف کا بلڈ پریشر کافی ہائی تھا۔

خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ میرے مؤکل ہائی بلڈ پریشر، دل، شوگر اور گردوں کے مرض میں مبتلا ہیں۔ ان کی دو مرتبہ اوپن ہارٹ سرجری ہوچکی ہے۔ سات دفعہ اسٹنٹ ڈالا گیا۔ استدعا ہے کہ ملزم کی سزا معطل کرکے انہیں مرضی کی جگہ پر علاج کرانے کی اجازت دی جائے۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بے شک نواز شریف سزا ہونے کے بعد واپس آئے لیکن نواز شریف ضمانت کے باوجود بیرونِ ملک نہیں جا سکتے۔ جن کا ٹرائل ہو رہا ہے وہ بھی واپس نہیں آئے۔ سزا یافتہ کیسے واپس آئے گا؟ کیا کوئی عدالتی مثال ہے کہ سزا یافتہ شخص کو بیرونِ ملک جانے دیا جائے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔ آئندہ سماعت 26 مارچ کو ہوگی۔ عدالت نے کہا ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر ہی درخواست کا فیصلہ کردے گی۔

یاد رہے کہ احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی اور وہ یہ سزا لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں کاٹ رہے ہیں۔

نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست دائر کی تھی جس کی سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی تھی۔ عدالت نے فریقین کا مؤقف سننے کے بعد درخواست کو مسترد کردیا تھا جس کے خلاف نواز شریف نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG