رسائی کے لنکس

logo-print

نواز شریف کا دورہ ٴامریکہ: کامیابی کا پیمانہ کیا؟


سرکاری سطح پر، وزیر اعظم نواز شریف کے دورہٴامریکہ کی کامیابی کا دارومدار کچھ بھی ہو، عوامی سطح پر اس دورے کی کامیابی کا پیمانہ بظاہر صرف ایک ہی نکتے کو قرار دیا جا رہا ہے

وزیراعظم نواز شریف ان دنوں امریکہ کے سرکاری دورے پر ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ اس دورے کے جتنے چرچے اس بار ہیں پہلے شاید سننے کو نہ ملے ہوں۔

سرکاری سطح پر اس دورے کی کامیابی یا ناکامی کا پیمانہ کچھ بھی ہو، عوامی سطح پر اس دورے کی کامیابی بظاہر صرف اس ایک نکتے پر ٹکی ہوئی ہے کہ اس دورے کے بعد ڈرون حملے بند ہوں گے یا نہیں؟

ایک تجزیہ نگار کا ’وائس آف امریکہ‘ کے نمائندے سے تبادلہٴخیال میں کہنا تھا کہ، ’اگر واقعی ’عوامی توقع کے عین مطابق‘ خبر آگئی تو لوگوں کو اتنی ہی خوشی ہوگی جتنی بھارت کے خلاف کسی بین الاقوامی کرکٹ مقابلہ جیتنے کے بعد ہوتی ہے۔‘

ڈرون حملوں سے متعلق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ آنے کے بعد ایک عام پاکستانی شہری کی وزیر اعظم کے دورہ امریکہ میں حملے بند ہونے سے متعلق امیدیں لگتا ہے مزید بڑھ گئی ہیں۔

کراچی کے ایک بزرگ شہری سردار عالم اور جامعہ کراچی کے سابق لیکچرار عبدالرحمن کا کہنا ہے، ’امریکہ کے لئے پاکستانی شہریوں کے دل جیتنے کا یہ سنہری اور نادر موقع ہے۔ حملے بند ہونے کی خبر دوہرا فائدہ پہنچائے گی ، ایک جانب عوامی سطح پر امریکہ کی امیج بہتر ہوگی تو دوسری جانب یہ نواز شریف کا ایسا کارنامہ ہوگا جس کے لئے وہ سالوں اور عشروں تک یاد کئے جاتے رہیں گے ۔۔کاش کہ ایسا ہی ہو۔۔‘

بین الاقوامی تعلقات کی ایک طالبہ عرشی کے بقول، ’ایسے حالات میں جبکہ ایک جانب امریکہ طالبان سے مذاکرات کا حامی نظر آتا ہے تو دوسری جانب وزیر اعظم نواز شریف بھی طالبان یا عسکریت پسندوں سے بات چیت کے حامی ہیں، ڈرون حملے بند کرنے کا اعلان ہر طرح سے مثبت نتائج کا حامل ہوگا، پاکستان کو دہشت گردی سے نجات ملے گی تو امریکہ اگلے برس سکون کے ساتھ افغانستان سے واپس جاسکے گا۔‘
XS
SM
MD
LG