رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس: دنیا کے ایک ارب افراد گھروں تک محدود


لاس انجلیس کی شاہراہیں سنسان پڑی ہیں۔ 20 مارچ 2020

ایسے میں جب کرونا وائرس کے سبب دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 11000 ہو چکی ہے، امریکہ نے لاک ڈاؤن کے سخت اقدامات کیے ہیں جب کہ یورپ بھر میں اکثر شہر بند ہیں۔ ہفتے کے روز تک دنیا بھر کے ایک ارب افراد اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

اس وبائی مرض کے نتیجے میں کرہ ارض کے روزمرہ کے معمولات ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں، میل جول بند ہے، اسکول بند پڑے ہیں اور کروڑوں لوگ گھروں سے کام کرنے پر مجبور ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ وائرس کے خلاف جنگ جیت رہا ہے، جب کہ انفرادی طور پر ریاستوں نے ڈرامائی طور پر شہریوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ کیلی فورنیا کے بعد نیویارک اور الی نوائے نے بھی لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں تک محدود رہیں۔

عالمی سطح پر وائرس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 11000 ہو چکی ہے، جب کہ صرف اٹلی ہی میں 4000 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جہاں گزشتہ ہفتے کے دوران یومیہ ہلاکتوں کی تعداد تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے، اے ایف پی کے اکٹھے کردہ اعداد و شمار کے مطابق، دنیا کے 35 ممالک میں 90 کروڑ سے زائد افراد گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس میں 60 کروڑ افراد وہ ہیں جنھیں سرکاری لاک ڈاؤن کے نتیجے میں گھروں تک محدود رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے انتباہ جاری کیا ہے کہ نوجوانوں کو بھی یہ بیماری لگ سکتی ہے، جب کہ عمر رسیدہ اور ایسے لوگ جن کی قوت مدافعت کسی اور بیماری کے سبب کم ہے ان پر کرونا وائرس جلد اثرانداز ہوتا ہے۔

ترکی میں شادی کی ایک تقریب
ترکی میں شادی کی ایک تقریب

صحت کے عالمی ادارے کے سربراہ، تدروس ادھنم گیبروس نے کہا ہے کہ ''آج مجھے نوجوانوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ آپ اپنے آپ کو کرونا وائرس کے حملے سے مبرا نہ سمجھیں۔ یہ وائرس آپ کو بھی کئی ہفتوں تک کے لیے اسپتال پہنچا سکتا ہے، یہاں تک کہ ہلاکت بھی واقع ہو سکتی ہے''۔

بقول ان کے، ''اگر آپ بیمار نہ بھی ہوں تب بھی آپ جہاں کہیں بھی جائیں، آپ کو سنبھل کر چلنا ہو گا؛ آپ کسی اور کے لیے زندگی اور موت کا موجب بن سکتے ہیں''۔

ہفتے کو متواتر تیسرے روز، چین نے اطلاع دی ہے کہ مقامی طور پر کسی نئے مریض کا اضافہ نہیں ہوا۔ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ چین کے وسط میں واقع شہر، ووہان، جہاں گزشتہ سال یہ وائرس نمودار ہوا، باقی دنیا کے لیے روشنی کی ایک کرن کی مانند ہے۔

اٹلی میں برگامو شہر فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
اٹلی میں برگامو شہر فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

لیکن، خطے میں ''باہر سے وارد ہونے والے'' وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے پر تشویش بڑھی ہے، جب کہ جمعے کے روز ہانگ کانگ نے بتایا کہ 48 مشتبہ نئے کیس سامنے آئے ہیں، جو کہ بحران کے آغاز سے اب تک سب سے تیز اضافہ بتایا جا رہا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر افراد یا یورپ گئے تھے یا وہاں سے لوٹے ہیں۔

جمعے کو اٹلی میں اب تک کی سب سے زیادہ ہلاکتیں واقع ہوئیں، جب فوت ہونے والوں کی ایک دن کی تعداد 627 کو پہنچی؛ جس سے اب تک ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 4032 ہو گئی ہے۔ اس دوران مرض کا پھیلاؤ روکنے کی کوششیں تیزی سے جاری ہیں۔

دنیا بھر کے مقابلے میں ایک کروڑ 10 لاکھ افراد کے اس ملک میں وائرس کے نتیجے میں 36 فی صد ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں؛ جب کہ آبادی کے لحاظ سے اس مرض میں مبتلا تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 8.6 فی صد ہے، جو دوسرے ملکوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ شرح ہے۔

ہیتھرو ایئرپورٹ پر خالی جہاز۔
ہیتھرو ایئرپورٹ پر خالی جہاز۔

فرانس، اٹلی، اسپین اور دیگر یورپی ملکوں میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں تک محدود رہیں؛ خلاف ورزی کے مرتکب افراد پر جرمانے کی سزائیں دی جا رہی ہیں؛ جب کہ جرمنی میں بواریہ کے علاقے میں لاک ڈاؤن کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

برطانیہ اب ہمسایہ یورپی یونین کے ملکوں سے الگ سوچ کا مالک ہے، جس نے متاثرہ کارکنان کی اجرت کی رقوم اکٹھی کرنے کے لیے جرمانے کا نیا انداز اپنایا ہے۔ وہاں پبس، ریستورانوں اور تھیٹروں کو بند کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔

آسٹریلیا کے مشہور بونڈی ساحل پر سن باتھ لینے والے ہجوموں سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر ساحل خالی کر دیں۔

Wall Street
Wall Street

ادھر، نیو ساؤتھ ویلز ریاست کے وزیر قانون، ڈیوڈ الیٹ نے اخباری نمائندوں کو بتایا ہے کہ ہم سخت اقدامات کر رہے ہیں، کیونکہ اب اس کے علاوہ اور کوئی چارہ باقی نہیں رہا تاکہ لوگوں کی زندگی بچائی جا سکے۔

امریکہ میں ریاست کیلی فورنیا سب سے زیادہ متاثر ہے، جہاں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 1000 سے زائد ہے، اور اب تک 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ریاست کے حکام نے چار کروڑ شہریوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں تک محدود رہیں۔

نیو یارک اسٹیٹ، جہاں 7000 سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد 39 تک پہنچ گئی ہے، وہاں جمعے کے دن سے سخت قسم کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جن میں تقریباً دو کروڑ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ اتوار کے روز شام سے اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

ٹرمپ نے نیویارک اور کیلی فورنیا کی جانب سے کیے گئے فیصلوں کو سراہا ہے، لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن مناسب اقدام ہو گا۔

مین ہٹن، نیو یارک۔
مین ہٹن، نیو یارک۔

صدر کے کلمات کے کچھ ہی لمحات بعد، الی نوائے کے گورنر نے ملک کی اس وسط مغربی ریاست کے شہریوں سے کہا کہ وہ گھروں کے اندر رہیں؛ جب کہ فوری بعد کنیٹی کٹ کے گورنر نے بھی اسی قسم کے احکامات جاری کیے۔

اب نیو یارک، لاس انجلیس اور شکاگو کے گنجان آباد شہروں میں لاک ڈاؤن ہے جب کہ تقریباً 10 کروڑ افراد کی آبادی والی سات ریاستوں میں گھروں تک محدود رہنے کے حکم نامے کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے۔

ٹرمپ نے جمعے کے روز یہ بھی کہا کہ امریکہ اور میکسیکو نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ دونوں کی سرحدوں کے آرپار غیر ضروری سفر کرنے والوں کو واپس بھیج دیا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG