رسائی کے لنکس

عراق اور شام میں امریکی افواج پر تقریبا 60 حملے


امریکہ ایران حملے ,پنٹگان ۔ فائل فوٹو
امریکہ ایران حملے ,پنٹگان ۔ فائل فوٹو

ایران کی پشت پناہی رکھنے والے عسکریت پسندوں کے حملے ختم نہیں ہو رہے۔ منگل کے روز بھی ایسا ہی ہوا اور مشرقی شام میں واقع مشن سپورٹ سائیٹ فرات کے قریب متعدد راکٹ حملے کیے گئے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کی مداخلت روکنے کے لیے کام کیا جا رہا ہے اور فوج نے شام میں ایران اور ایرانی حمایت یافتہ جنگجو گروپوں کے زیر استعمال دو تنصیبات پر اتوار کو حملہ کیا تھا۔ دفاعی حکام نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ عراق اور شام میں ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں نے امریکی فوجیوں پر حملے کیے ہیں اور جن کی تعداد ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کم از کم 56 رہی ہے۔ اتوار کے روز کیےگئے حملوں کے بعدبھی کم از کم پانچ حملے ہوئے۔

پینٹاگون کی نائب پریس سیکریٹری سبرینا سنگھ کہتی ہیں کہ سوال یہ ہے کہ آیا روک تھام کے اقدامات مؤثر ثابت ہو رہے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم ایسا ہی محسوس کر رہے ہیں ۔’’ہم نے اس لڑائی کو کسی بڑے علاقائی تنازعے کی شکل اختیار کرتے نہیں دیکھا اور جو حملے ہم کر رہے ہیں ان کا مقصد ایران اور اس سے منسلک گروپوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ وہ اپنی کارروائیوں سے بازرہیں۔ ہمارا ان حملوں کا مقصد یہی تھا۔‘‘

سنگھ نے تسلیم کیا کہ ایران سے وابستگی رکھنے والے یہ گروپ امریکی فوجیوں کے خلاف اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن امریکی حکمت عملی مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔

سبرینا سنگھ ۔ پینٹاگون
سبرینا سنگھ ۔ پینٹاگون

پینٹاگون کی نائب پریس سیکریٹری سبرینا سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’ میرے خیال میں ہم ان گروپوں کے خلاف حملے کرنے میں بہت محتا ط انداز اپنائے ہوئے ہیں اور میرا خیال ہے کہ ایران ہمارے اس پیغام سے بخوبی آگاہ بھی ہے۔‘‘

امریکی حکام نے بتایا ہے کہ 50 سے زائد فوجیوں کو معمولی زخموں سے لیکر دماغی چوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑا جس کے بعد ہی وہ اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے واپس آئے ۔

امریکی سینیٹروں کے ایک گروپ نے منگل کے روز رپورٹروں کو بتایا کہ امریکہ اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اسے کوئی جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑا اور انہوں نے ایران کے پاسداران انقلاب یا آئی آر جی سی کےخلاف زیادہ کڑے ردعمل پر زور دیا۔ سینیٹروں کے اس گروپ میں دونوں سیاسی جماعتوں کے ارکان شامل تھے۔

سینیٹر لنڈسی گراہم نے کہا کہ ’’ اگر ایران نے شام اور عراق میں ہمارے فوجیوں کو دھمکانا جاری رکھا تو میرے خیال میں ایران کے اندر آئی آر جی سی کے تربیتی اڈوں اور انفرا سٹرکچر پر حملے کرنا درست فوجی رد عمل ہو گا۔ ‘‘

مشرق وسطی میں امریکی فوجوں کے سابق کمانڈر اور ریٹائرڈ جنرل فرینک میکینزی نے وائس آف امریکا کو بتایا ہے کہ اس خطے میں فوجیوں کی تعداد میں کمی کرنے کے امریکی اقدام سے ایران کو طاقت ملی ہے۔

جنرل میکینزی کہتے ہیں کہ ’’ان کا بنیادی مقصد خطے سے امریکہ کو نکالنا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ‘‘

امریکہ کے دو دفاعی عہدے داروں نے وائس آف امریکہ کو تصدیق کی ہے کہ اربیل ہوائی اڈے پر گزشتہ ماہ امریکی فوجیوں کی بیرکس پر ڈرون حملہ کیا گیا لیکن ڈرون پھٹنے میں ناکام رہا۔ ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ اگر یہ ڈرون حملہ کامیاب ہو جاتا تو متعدد فوجی زخمی یا ہلاک ہو سکتے تھے۔

کارلا بیب ۔ وائس آف امریکہ

فورم

XS
SM
MD
LG