رسائی کے لنکس

انڈونیشیا: آتش فشاں کے باعث ایک لاکھ لوگوں کا انخلا


بالی کا آتش فشاں پہاڑ ماؤنٹ اگونگ

ادارے کے مطابق پہاڑ سے مسلسل گہرا دھواں اور راکھ نکل رہی ہے جب کہ اس کے باعث علاقے میں اب تک زلزلے کے 800 سے زائد جھٹکے ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔

انڈونیشیا کے مشہور جزیرے بالی میں ایک آتش فشاں پھٹنے کے خطرے کے پیشِ نظر اس کے نزدیک بسنے والے لگ بھگ ایک لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔

انڈونیشیا میں قدرتی آفات سے نبٹنے کے قومی ادارے نے بتایا ہے بالی کے شمال مشرق میں واقع اگونگ نامی پہاڑ کے نزدیکی علاقوں سے جمعرات کی صبح تک ایک لاکھ 22 ہزار سے زائد افراد کا انخلا ہوچکا ہے اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

پہاڑ کے نزدیک آباد دیہات کی آبادی کا انخلا گزشتہ ہفتے شروع ہوا تھا جس میں جمعے کے بعد سے اضافہ ہوگیا ہے۔

حکام نے جمعے کو آتش فشاں کے خطرے کا لیول انتہائی حد تک بڑھا دیا تھا جس کے بعد پہاڑ کے ارد گرد 12 کلومیٹر کے دائرے میں موجود دیہات کی آبادی کے لازمی انخلا کی ہدایات جاری کردی گئی تھیں۔

ادارے کے مطابق پہاڑ سے مسلسل گہرا دھواں اور راکھ نکل رہی ہے جب کہ اس کے باعث علاقے میں اب تک زلزلے کے 800 سے زائد جھٹکے ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔

اگونگ کا یہ آتش فشاں پہاڑ اس سے قبل 1963ء میں پھٹا تھا جس کے باعث 1100 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

پھٹنے کے بعد یہ آتش فشاں لگ بھگ ایک سال تک متحرک رہا تھا اور لاوا اور راکھ اگلتا رہا تھا۔

آفات سے نبٹنے کے قومی ادارے کے ترجمان کے مطابق اس بار بھی آتش فشاں کے پھٹنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں لیکن ماہرین حتمی طور پر یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ یہ کب پھٹے گا۔

آتش فشاں کے باعث اپنا گھر بار چھوڑنے والے ہزاروں افراد کو بالی کے مختلف مقامات پر قائم کیے جانے والے 400 سے زائد عارضی کیمپوں، کھیل کے میدانوں اور سرکاری عمارتوں میں پناہ دی گئی ہے ۔

انڈونیشیا کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے کہا ہے کہ اگر آتش فشاں پھٹنے کی صورت میں بالی کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بند کرنا پڑا تو وہ جزیرے سے سیاحوں کو منتقل کرنے کے لیے 100 بسیں فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

اگونگ کا یہ آتش فشاں پہاڑ بالی کے معروف سیاحتی مقام کوٹا سے 70 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے اور انڈونیشیا میں واقع 120 متحرک آتش فشاں پہاڑوں میں سے ایک ہے۔

انڈونیشیا میں واقع ایک اور آتش فشاں پہاڑ سینا بنگ 2010ء سے متحرک ہے جو گزشتہ سات برسوں سے وقفے وقفے سے راکھ اگل رہا ہے جو بعض اوقات فضا میں کئی کئی کلومیٹر تک پھیل جاتی ہے۔

اس آتش فشاں کے باعث بھی علاقے میں آباد 30 ہزار سے زائد افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر رہنے پر مجبور ہیں۔

ہزاروں جزائر پر مشتمل انڈونیشیا بحرالکاہل میں جس مقام پر واقع ہے اسے زیرِ زمین پلیٹوں کے ملنے اور آتش فشاں پہاڑوں کی موجودگی کے باعث 'رنگ آف فائر' بھی ہا جاتا ہے جس کے باعث یہاں زلزلوں کا آنا معمول ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG