رسائی کے لنکس

logo-print

نیپال: اے ٹی ایم فراڈ میں ملوث 122 چینی باشندے گرفتار


کھٹمنڈو پولیس چیف کے مطابق، گرفتار چینی باشندے بینکوں کی کیش مشینوں کی ہیکنگ میں ملوث ہیں

نیپال کی پولیس نے سیاحتی ویزا پر ملک میں آنے والے 122 چینی باشندوں کو حراست میں لے لیا ہے، جن پر سائبر کرائم میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

دارالحکومت کھٹمنڈو کے پولیس چیف اوتم سبیدی کے مطابق، اطلاعات تھیں کہ چینی باشندے مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہیں جس کے بعد ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے گئے۔

ان کے بقول، پیر کو ایک کارروائی کے دوران 122 چینی باشندوں کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔

پولیس چیف کے مطابق، گرفتار چینی باشندے بینکوں کی کیش مشینوں کی ہیکنگ میں ملوث ہیں، جنہیں مختلف تھانوں میں رکھا گیا ہے جب کہ ان کے لیپ ٹاپ اور پاسپورٹ تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔

اوتم سبیدی کا مزید کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث غیر ملکیوں کی بڑی تعداد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

نیپال میں موجود سفارت خانے نے فوری طور پر چینی باشندوں کی گرفتاری پر اپنا ردِ عمل نہیں دیا۔

البتہ، سینئر پولیس افسر ہوبندرا بوگاٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی سفارت خانہ ملزمان کی گرفتاری سے آگاہ ہے اور اس نے مشکوک چینی باشندوں کی گرفتاری کی حمایت کی ہے۔

چینی باشندوں کے اے ٹی ایم فراڈ میں ملوث ہونے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔

گزشتہ ہفتے فلپائن میں 342 چینی باشندے گرفتار کیے گئے تھے جب کہ ستمبر میں نیپال کی پولیس نے بینکوں کی اے ٹی ایم مشینیں ہیک کر کے پیسے نکالنے کے الزام میں پانچ چینی باشندوں کو گرفتار کیا تھا۔

پاکستان میں بھی چینی باشندوں کو اے ٹی ایم مشینوں کے فراڈ میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔

نیپال کے محکمۂ سیاحت کے اعداد و شمار کے مطابق، رواں برس جنوری سے اکتوبر تک ایک لاکھ 34 ہزار سے زائد چینی سیاح نیپال کا دورہ کر چکے ہیں۔

یاد رہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ کے رواں سال اکتوبر میں دورہ نیپال کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان جرائم میں ملوث شہریوں کے تبادلے کے ایک معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔

چین نیپال میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے اور حالیہ چند برسوں کے دوران اس نے سڑکوں کے علاوہ توانائی اور صحت کے شعبے میں بھی نیپال میں بھاری سرمایہ لگایا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG