رسائی کے لنکس

نیپال کے نئے نقشے کی منظوری، بھارت کے زیرِ انتظام تین علاقے بھی شامل


نیپال نے لیپو لیکھ، کالا پانی اور لمپیادُھرا کو نئے نقشے میں شامل کیا ہے۔ (فائل فوٹو)

نیپال کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا نے بھی متفقہ طور پر ملک کے نئے نقشے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت تین ایسے متنازع علاقے نقشے میں شامل کیے گئے ہیں جو بھارت کے زیرِ انتظام ہیں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق نیپال کے ایوان بالا یا قومی اسمبلی میں جمعرات کو پرانے نقشے کو نئے نقشے سے بدلنے کے لیے آئینی ترمیم پیش کی گئی۔

آئینی ترمیم کے ذریعے بھارت کی سرحد سے متصل اسٹریٹجک اہمیت کے حامل تین علاقوں لیپو لیکھ، کالا پانی اور لمپیادُھرا کو نئے نقشے میں شامل کیا گیا ہے۔

نیپال نے یہ اقدام ایسے موقع پر کیا ہے جب بھارت کو مشرقی لداخ میں سرحد پر چین کے ساتھ فوجی کشیدگی کا سامنا ہے اور ایک جھڑپ میں اس کے 20 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

نیپال کے ایوانِ بالا کے چیئرمین گنیش پرساد کا کہنا ہے کہ نئے نقشے کی منظوری کے لیے کی جانے والی آئینی ترمیم کے حق میں 57 ارکان نے ووٹ دیا ہے۔

نیپال کے ایوانِ زیریں نے گزشتہ ہفتے نئے نقشے کی منظوری دی تھی۔ ایوانِ زیریں کے ارکان کی تعداد 275 ہے جن میں سے 258 نے اجلاس میں شرکت کی تھی اور سب نے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے نئے نقشے کی آئینی ترمیمی کی منظوری کے بعد اس پر صدر دستخط کریں گے جس کے بعد نیپال کے نئے نقشے میں تین متنازع علاقے شامل ہوں گے۔

گزشتہ ماہ جب نیپال کی حکمران جماعت نے اس نقشے کی منظوری دی تھی تو اس پر بھارت نے سخت ردِ عمل ظاہر کیا تھا۔ نئی دہلی کا کہنا تھا کہ یہ قدم یک طرفہ ہے اور حقائق کے خلاف ہے۔

نیپال کے وزیرِ قانون شیوا مایا نے ایوان کو بتایا کہ مذکورہ متنازع علاقوں کو اپنی حدود میں شامل کرنے سے متعلق ان کے پاس مصدقہ شواہد اور ثبوت موجود ہیں اور بھارت کے ساتھ سفارتی سطح پر مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کر لیا جائے گا۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان انوراگ شری واستو نے کہا تھا کہ نیپال کی یہ مصنوعی توسیع تاریخی حقائق یا ثبوتوں پر مبنی نہیں ہے اور یہ سرحدی تنازعات کو حل کرنے کے لیے مجوزہ مذاکرات کی بھی خلاف ورزی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت نے گزشتہ برس جموں و کشمیر کو مرکز کے زیرِ انتظام دو علاقوں میں تقسیم کرنے کے بعد ایک نیا نقشہ جاری کیا تھا جس میں اس نے کالا پانی کے علاقے کو اپنا علاقہ دکھایا تھا۔ اس پر نیپال نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا اور کالا پانی کو اپنا علاقہ بتایا تھا۔

دونوں ملکوں کے درمیان اس وقت کشیدگی شدت اختیار کر گئی تھی جب بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے آٹھ مئی کو لیپو لیکھ درّے کو ریاست اُتر کھنڈ سے ملانے والی سڑک کا افتتاح کیا تھا۔ یہ علاقہ چین کے زیر اتنظام تبت کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔

اسٹریٹجک اہمیت کی حامل 80 کلو میٹر طویل اس سڑک سے تبت میں واقع ماناساروار جھیل کا راستہ مختصر ہو جائے گا۔ یہ جھیل ہندوؤں کے مقدس مقامات میں شمار کی جاتی ہے۔

نیپال کا دعویٰ ہے کہ بھارت جو سڑک بنانے جا رہا ہے وہ 19 کلو میٹر تک نیپال کے علاقے سے گزرے گی۔

نیپال کا کہنا ہے کہ اس کا 1816 میں برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی سے معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت اس کی مغربی سرحد میں وہ تمام علاقے شامل ہیں جو بہنے والے دریا کے ساتھ واقع ہیں اور یہی دریا اس کے سرحد کا تعین بھی کرتا ہے۔

دوسری جانب نئی دہلی حکومت نیپال کے مؤقف کی تردید کرتی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان متنازع علاقے کا رقبہ 372 اسکوائر کلو میٹر ہے۔ تاہم یہ علاقے اسٹریٹجک اعتبار سے اس لیے اہمیت کے حامل ہیں کیوں کہ یہ نیپال، بھارت اور چین کے تبت کے درمیان واقع ہے۔

چین سے 1962 میں ہونے والی جنگ کے بعد سے بھارت اس علاقے میں موجود ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG