رسائی کے لنکس

logo-print

چین، بھارت تنازع: کیا لائن آف کنٹرول پر بھی کشیدگی بڑھ سکتی ہے؟


(فائل فوٹو)

پاکستان اور بھارت کے مابین لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر کشیدگی کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن گزشتہ ایک سال کے دوران ایل او سی پر فائرنگ اور گولہ باری کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے باعث عام شہری بھی نشانہ بنتے رہے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب بڑی تعداد میں فوجی تعینات ہیں۔

بھارت اور پاکستان نے 2003 میں باہمی رضا مندی سے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا معاہدہ کیا تھا تاکہ دونوں ممالک کے مابین باضابطہ مذاکرات شروع ہو سکیں۔ اس معاہدے پر کسی حد تک 2008 تک عمل درآمد بھی ہوا لیکن ممبئی 2008 کے حملوں کے بعد تناؤ بڑھ گیا۔

اگست 2019 میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرنے کے بعد سے اب تک ایل او سی پر نہ صرف کشیدگی میں اضافہ ہوا بلکہ بھارت کا کہنا ہے پاکستان سے درانداز کشمیر میں داخل ہو رہے ہیں۔ پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کشمیری نوجوانوں کی ہلاکت کو نسل کشی اور ماورائے عدالت ہلاکتیں قرار دیتا رہا ہے۔

سرحدی کشیدگی اور دراندازی کے الزامات

دفاعی تجزیہ کاروں کے خیال میں لائن آف کنٹرول پر مسلسل کشیدگی تشویش ناک ہے جب کہ پاکستان کے سول اور عسکری حکام بھی متعدد بار بھارت کی جانب سے ممکنہ 'فالس فیلنگ آپریشن' کا ذکر کر چکے ہیں۔

ماہرین کے بقول فالس فلیگ آپریشن سے مراد وہ کارروائی ہے جس میں کوئی ملک دہشت گردی کے کسی واقعے کو بنیاد بنا کر اپنے دفاع کا جواز پیش کر کے کسی دوسرے ملک میں کارروائی کرتا ہے۔

حالیہ دنوں میں دونوں ملکوں کے درمیان ایل او سی پر جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔
حالیہ دنوں میں دونوں ملکوں کے درمیان ایل او سی پر جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔

لائن آف کنٹرول پر ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سے بھی بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال کے دوران اب تک دراندازی کرنے والے کئی عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ ایل او سی پر 10 فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

بھارت کی طرف سے عسکریت پسند قرار دے کر ہلاک کیے جانے والے افراد کی شہریت کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔

سیکیورٹی اُمور کے تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کی موجودگی اور ان کی کشمیر میں جہاد کی پالیسی پر موجود حالات میں عمل ممکن نہیں ہے۔

'پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز' کے عامر رانا کہتے ہیں کہ اس وقت خطے کی اور پاکستان کی جو صورتِ حال ہے اس میں ایسا کرنا پاکستان کے لیے ممکن نہیں ہے۔

ؤائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر بعض علاقوں میں ایسی صورتِ حال ہے کہ گلہ بانی کرنے والوں کے جانور ایل او سی پار کر کے بھارتی علاقوں میں چلے جاتے ہیں جن کی تلاش میں وہ ایل او سی عبور بھی کر جاتے ہیں۔

عامر رانا کے بقول اکثر بھارت کی طرف سے ان افراد کو ہلاک کرنے کے بعد ان پر عسکریت پسند ہونے کا الزام لگا دیا جاتا ہے لیکن پاکستان ان افراد کو ہمیشہ عام شہری ہی کہتا رہا ہے۔

بھارت نے لائن آف کنٹرول پر باڑ بھی لگائی ہے اور دنوں جانب سرحدی چوکیاں بھی ہیں۔ ایسے میں ماہرین کے خیال میں دراندزی ممکن نہیں ہے۔

دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) سید نذیر کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر بھارت نے 2003 میں باڑ لگائی اور سرحد پر 8 فٹ اونچی اس باڑ کو عبور کرنا نا ممکن ہے۔ زمین پر بارودی مواد نصب ہے اور اس کے ساتھ ساتھ 'تھرمل امیجنگ سسٹم' بھی اس باڑ میں نصب ہے۔

تجزیہ کار عامر رانا کا کہنا تھا کہ ایسی صورتِ حال میں بھارت کے الزامات درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی صورتِ حال کے پیشِ نظر پاکستان کے لیے ایسا ممکن نہیں کہ وہ فی الحال ایسی کسی پالیسی کی حمایت کرے جس کے تحت عسکریت پسند لائن آف کنٹرول کے ذریعے بھارت میں داخل ہوں۔

جھڑپوں کے دوران شہری آبادیوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
جھڑپوں کے دوران شہری آبادیوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

مقامی آزادی پسند تحریکوں میں شدت

دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) سید نذیر کے مطابق بھارت کی طرف سے پاکستان پر عائد الزامات کا مقصد کشمیر کی صورتِ حال سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے جہاں مقامی افراد بھارت کی کارروائیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں حالیہ دنوں میں جن افراد کو عسکریت پسند قرار دے کر ہلاک کیا گیا ان سب کا تعلق بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے ہی تھا۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے اور گزشتہ عرصے کے دوران سیکیورٹی فورسز کی جانب سے حزب المجاہدین کے سرکردہ کمانڈر ریاض نیکو سمیت کئی مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ماضی میں بعض علاقوں میں عسکریت پسند تنظیموں لشکر طیبہ اور جماعت الدعوہ کے تربیتی کیمپ تھے۔ لیکن اب پاکستان کی ریاستی پالیسی میں تبدیلی کے بعد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایسا کوئی کیمپ نہیں ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کراس بارڈر نقل و حرکت اب بھی ہو رہی ہے تو اس میں غیر ریاستی عناصر شامل ہو سکتے ہیں۔

بریگیڈیئر (ر) سید نذیر کہتے ہیں کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھارتی فوج نے ایسے حالات کر دیے ہیں وہاں مقامی تنظیمیں ازخود بھارتی فوج کے خلاف کارروائیاں کررہی ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ 2020 میں اب تک بھارتی افواج نے 1296 مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجہ میں 7 افراد ہلاک اور 98 سویلین زخمی ہوئے۔ اگرچہ لائن آف کنٹرول پر ہونے والے فائرنگ کے تبادلہ میں فوجی اہل کار بھی ہلاک ہوئے لیکن ان کی تعداد نہیں بتائی گئی۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق سرحدی کشیدگی اور تند و تیز بیانات اور پاکستان کے جانب سے اٹھائے گئے خدشات سنجیدہ ہیں اور ایسے میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو کرادر ادا کرنا چاہیے۔

XS
SM
MD
LG