رسائی کے لنکس

ایران خفیہ طور پر جوہری ہتھیار تشکیل دے رہا ہے، نیتن یاہو کا دعویٰ


اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اُن کے ملک کے پاس ’’نیا اور حتمی ثبوت‘‘ ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار تشکیل دینے کی خفیہ سرگرمیاں جاری رکھی ہیں، جو بات 2015ء کے بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی ہے جس میں ایران کے لیے لازم تھا کہ وہ نیوکلیئر ہتھیار بنانے سے باز رہے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے ’پرائم ٹائم‘ ٹیلی ویژن خطاب سے قبل ایک اعلیٰ سطحی اسرائیلی سیاسی ذریعے نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ یہودی ریاست کو ’’ڈھیر ساری دستاویز موصول ہوئی ہیں جو اِن حقائق سے پردہ اٹھاتی ہیں کہ معاہدے کے سلسلے میں ایران ہمیشہ دھوکہ دہی سے کام لیتا رہا ہے‘‘۔

نیتن یاہو طویل عرصے سے اس معاہدے کی مخالفت کرتے رہے ہیں جو امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین نے ایران کے ساتھ کیا تھا، جس کے عوض ایران پر معاشی تعزیرات اٹھائی گئی تھیں، جن کے نتیجے میں ایران کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ بالآخر یہ معاہدہ ایران کو جوہری طاقت بننے سے نہیں روک سکتا۔

نیتن یاہو ایسے وقت خطاب کر رہے ہیں جس سے ایک ہی ہفتہ قبل اختتام ہفتہ وہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے گفتگو کرچکے ہیں جنھوں نے دھمکی دے رکھی ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران وہ سمجھوتے کو ختم کرسکتے ہیں اور ایران پر پھر سے تعزیرات عائد کرسکتے ہیں۔

طویل عرصے سے ٹرمپ یہ شکایت کرتے رہے ہیں کہ معاہدے کے نتیجے میں ایران نے بیلسٹک میزائل تجربات بند نہیں کیے ناہی ایران نے شام، یمن اور مشرق وسطیٰ کے دیگر مقامات کی جانب فوج کشی بند کی ہے۔

نئے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اتوار کے روز واضح کیا کہ 12 مئی کو ٹرمپ امریکہ کو معاہدے سے علیحدہ کر دیں گے، جب تک اسے امریکہ کی مرضی کے مطابق ’’ٹھیک‘‘ نہیں کر دیا جاتا، جو بات یورپ کے امریکی اتحادیوں کی خواہشات کے خلاف ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG