رسائی کے لنکس

logo-print

متوقع طور پر نیتن یاہو بدھ کو نئی حکومت تشکیل دیں گے


فائل

توقع ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو کو بدھ کے روز پانچویں بار وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے کا اشارہ مل جائے گا۔ لیکن، گذشتہ ہفتے کے انتخابات کے بعد اب مخلوط حکومت تشکیل دینے کے لیے اُنھیں سخت مذاکرات درکار ہوں گے۔

اسرائیلی صدر روین رولین کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا آیا اگلی حکومت کون بنائے گا، اور توقع یہی ہے کہ وہ بدھ تک نیتن یاہو کا انتخاب کریں گے، جب تک انتخابات کے حتمی نتائج سامنے آ چکے ہوں گے۔

رولین کے دفتر نے منگل کے روز بتایا ہے کہ وہ اس بات کے خواہاں ہیں کہ اگلے وزیر اعظم بدھ کے روز 7 بجے شام تک اُن سے ملاقات کریں، جس دوران وہ ایک گھنٹے تک کھلے عام گفت و شنید کریں گے۔

نتائج سے متعلق اب تک کے اندازوں میں نیتن یاہو کی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی لکڈ پارٹی کو 36 نشستیں ملی ہیں؛ جو ’بلو اینڈ وائٹ اتحاد‘ کے متحارب اتحاد سے ایک نشست زیادہ ہے، جس کی قیادت فوج کے سابق سربراہ، بینی گانتز کرتے ہیں۔

دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے ساتھ نیتن یاہو حکومت سازی کے لیے بہتر پوزیشن میں ہوں گے، اور 120 نشستوں والے پارلیمان میں اُنھیں 65 سیٹوں پر کنٹرول حاصل ہوجائے گا۔

ریولین نے منگل کے روز سیاسی جماعتوں کے ساتھ صلاح و مشورہ کیا جب کہ ایک کلیدی سیاست دان نے نیتن یاہو کی حمایت کا اعلان کیا۔

سابق وزیر دفاع، اوگڈور لبرمن نے پیر کی رات تک نیتن یاہو کی کھل کر حمایت نہیں کی تھی۔

ان کی جماعت ’اسرائیل بائتنو‘ نے منگل کے روز ریولین کو بتایا کہ وہ نیتن یاہو کی حمایت کرے گی، اور اگلی مخلوط حکومت تشکیل دینے کے لیےان کی جماعت کی پانچ نشستیں فیصلہ کُن ثابت ہوں گی۔

تاہم، لبرمن نے یہ بھی کہا کہ اتحادی حکومت تشکیل دینے کے حوالے سے ان کی صرف ایک ہی شرط ہے اور وہ یہ کہ سیکولر شہریوں کی طرح انتہائی قدامت پسند یہودیوں کو بھی فوج میں خدمات انجام دینا پڑیں گی۔

مذہبی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے قدامت پسند یہودیوں کو اس وقت فوج میں خدمات انجام دینے سے استثنیٰ حاصل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG