رسائی کے لنکس

logo-print

نیتن یاہو نے مغربی کنارے میں تعمیرات کی اجازت دے دی


ادھر، محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے کہا ہے کہ امریکہ اس آبادکاری کو ’اب بھی غیرقانونی تصور کرتا ہے‘، اور اس سلسلے میں پیش رفت ’تنازع کے دو ریاستی حل کے لیے خطرہ ہے‘

اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے مغربی کنارے میں 300 گھروں کی فوری تعمیر جب کہ مشرقی یروشلیم میں مزید 500 مکان تعمیر کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس پر امریکہ اور یورپی یونین نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

نیتن یاہو نے بیت ایل میں تعمیرات کی اجازت سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد دی جس میں عدالت عظمیٰ نے بنیاد پرست یہودیوں کی طرف سے غیر قانونی آبادکاری کے دوران بنائے گئے دو اپارٹمنٹس کو منہدم کرنے کے پہلے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ ان گھروں کو مسمار کرنے کے خلاف ہیں؛ ’لیکن، قانون کا احترام کیا جانا لازم ہے‘۔

رواں ہفتے اسرائیلی پولیس کی اس وقت مقامی آبادکاروں سے جھڑپیں بھی ہوئیں، جب ان گھروں کو مسمار کرنے کے لیے بلڈوزر یہاں پہنچے اور لوگوں کو گھروں سے نکلنے کا کہا گیا۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی تیز دھار کا استعمال بھی کیا۔

دریں اثناء امریکہ کے محکمہ خارجہ نے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلیم میں آبادکاری کے منصوبے میں پیش رفت کے اسرائیلی فیصلے پر ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔

ترجمان مارک ٹونر نے کہا ہے کہ امریکہ اس آبادکاری کو اب بھی غیرقانونی تصور کرتا ہے۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ ’آبادکاری میں پیش رفت تنازع کے دو ریاستی حل کے لیے خطرہ اور اس کے مذاکراتی حل کے لیے اسرائیل کے عزم پر سوال ہے۔‘

یورپی یونین نے بھی ایک بیان میں ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا جب کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے ایک ترجمان نے آباد کاری کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔

فلسطینی مشرقی یروشلیم کو مغربی کنارے میں اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

فلسطینی حکام یہودی آبادکاری منصوبے کو امن معاہدے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ تصور کرتے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ ’یہ آبادکاری قانونی ہے اور ملک کے دفاع کے لیے ضروری ہے‘۔

XS
SM
MD
LG