رسائی کے لنکس

logo-print

فلسطینی ریاست، کسی یکطرفہ اقدام کی مخالفت ہوگی: اسرائیل


امریکی محکمہٴخارجہ نے کہا ہے کہ پیر کے دِن پیرس میں دونوں عہدے داروں کی ملاقات ہونے والی ہے، جس میں فلسطینی ریاست کے سلسلے میں مختلف تجاویز پر غور ہوگا، جن کا ذکر اذکار اقوام متحدہ میں جاری ہے

وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ امریکی وزیر خارجہ، جان کیری کو بتائیں گے کہ اسرائیل اقوام متحدہ کے کسی ایسے اقدام کی مخالفت کرے گا جس میں فلسطینیوں کی طرف سے ریاست کے قیام کے لیے علاقے سے انخلا کا کوئی نظام الاوقات دینے کی کوشش کی جائے۔

امریکی محکمہٴخارجہ نے کہا ہے کہ پیر کے دِن پیرس میں دونوں عہدے داروں کی ملاقات ہونے والی ہے، جس میں فلسطینی ریاست کے سلسلے میں مختلف تجاویز پر غور ہوگا، جن کا ذکر اذکار اقوام متحدہ میں جاری ہے۔

فلسطینی اہل کاروں کا کہنا ہے کہ، بعدازاں، کیری منگل کے روز لندن میں فلسطینی سرکردہ مذاکرات کار، صائب عریقات اور عرب وزرائے خارجہ کے ایک وفد سے ملاقات کریں گے۔ متوقع طور پر، یہ وفد، امریکہ پر زور دے گا کہ وہ اِن تجاویز پر روک لگانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کا استعمال نہ کریں۔

کیری کی قیادت میں اسرائیل کے ساتھ امریکہ کی ثالثی میں منعقدہ امن مذاکرات اپریل میں ناکامی کا شکار ہو چکے ہیں۔

اُس وقت سے لے کر اب تک، فلسطینیوں نے اپنی ریاست تشکیل دینے کے لیے اقوام متحدہ کی سطح پر یکطرفہ کوششیں جار ی رکھی ہیں۔

وہ، یہ ریاست، مقبوضہ مغربی کنارے اور اسرائیلی طرف سے بندش لگائی گئی غزہ کی پٹی میں قائم کرنا چاہتے ہیں، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم میں ہوگا۔

گذشتہ ماہ، اردن نے فلسطین کی مسودہٴقرارداد، 15 رُکن ممالک پر مشتمل سلامتی کونسل کے سامنے رکھی تھی، جس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ 1967ء کی جنگ کے دوران قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقوں کو نومبر، 2016ء کے اواخر تک خالی کر دیا جائے۔

ادھر، فرانس، برطانیہ اور جرمنی مل کر اپنا مسودہ ترتیب دے رہے ہیں، جسے وسیع تر اکثریت حاصل ہونے کی امید ہے۔

XS
SM
MD
LG