رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں ایران کی فوجی موجودگی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی: نیتن یاہو


اسرائلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل شام میں ایران کی فوجی موجودگی ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔

نیتن یاہو نے اس بات کا عہد بدھ کے روز ٹیلی فون پر روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

نیتن یاہو کے دفتر نے اس ٹیلی فون کال کے بارے میں مختصر تفصیل بتائی ہے۔

لیکن، کریملن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پوٹن نے شام کے اقتدار اعلیٰ کو قائم رکھنے کی اہمیت کے بارے میں بات کی؛ اور کہا کہ اسرائیل کو کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیئے جس سے شام کی سکیورٹی کو خدشات لاحق ہوں۔

نیتن یاہو۔پوٹن بات چیت ایسے وقت ہوئی جب اسرائیل میں ’ہولوکاسٹ‘ کی یاد میں سالانہ دِن منایا جا رہا ہے، جب ملک 60 لاکھ یہودیوں کے قتل عام کو یاد کر رہا ہے جو جنگ عظیم دوم کے دوران نازیوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔

اسرائیل کے ’یاد واشم ہولوکاسٹ میموریل‘ میں نیتن یاہو نے کہا کہ ’’حالیہ دنوں کے واقعات یہ درس دیتے ہیں کہ بدی اور جارحیت کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونا، ہر نسل کا لازمی مشن ہونا چاہیئے۔ ہم نے ’سواسٹیکا‘ دیکھا جو مظاہرین غزہ میں باڑ کی دوسری جانب سے لہرا رہے تھے۔ ہم نے شامی بچوں کو کیمیائی ہتھیاروں سے ہلاک ہوتے ہوئے دیکھا۔ اِن المناک تصاویر دیکھنے سے ہمارے دل دہل گئے‘‘۔

نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کو اسرائیل کے ’’عزم‘‘ کا امتحان نہیں لینا چاہیئے۔ اور اُنھوں نے ایرانی عوام سے کہا کہ وہ جان لیں کہ اسرائیل آپ کا دشمن نہیں ہے، لیکن ’’ظالموں کی حکومت‘‘ تہران میں بیٹھی ہے۔

بقول اُن کے ’’جب یہ حکومت دنیا سے چلی جائے گی، اور بالآخر غائب ہو جائے گی، ہمارے دو قدیم باشندے، یہودی اور فارسی، ایک بار پھر تعاون اور بھائی چارے کی بنیاد پر زندگی گزار سکیں گے‘‘۔

پیر کے روز شام کے فضائی اڈے پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد ایران کی جانب سے بدلے کی کارروائی کے امکان کے پیشِ نظر اسرائیل میں ریڈ الرٹ ہے۔

یہ اسرائیلی فضائی کارروائی ہفتے کے روز دمشق کے مضافات میں مبینہ شامی کیمیائی حملے کے جواب میں کی گئی، جس کے نتیجے میں 40 سے زائد سولین آبادی ہلاک و زخمی ہوئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG