رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کے ممکنہ حملے کے پیشِ نظر شام میں ریڈ الرٹ


شام کے ایک فوجی اڈے پر موجود روس کا جنگی طیارہ (فائل فوٹو)

اطلاعات ہیں کہ شامی فوج کی اتحادی لبنانی شیعہ تنظیم حزب اللہ اور ایرانی ملیشیاؤں کے جنگجو بھی فضائی حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر مشرقی شام کے کئی مقامات پر اپنے مورچوں سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

شام کی حکومت نے امریکہ کے فضائی حملے کے خطرے کے پیشِ نظر ملک بھر میں اپنے فوجی اڈوں اور تنصیبات کے لیے ریڈ الرٹ جاری کردیا ہے۔

دریں اثنا روسی حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہےکہ وزارتِ خارجہ نے ماسکو میں تعینات اسرائیل کے سفیر کو شام کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کے لیے طلب کیا ہے۔

روس نے اسرائیلی سفیر کو ملاقات کی یہ دعوت پیر کو شام کے ایک فوجی ہوائی اڈے پر کیے جانے والے میزائل حملے کے بعد دی ہے جس کا الزام روس اور شام دونوں نے اسرائیل پر عائد کیا تھا۔

روسی صدر کے نمائندۂ خصوصی برائے مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میخائل بوگدانووف نے منگل کو روسی خبررساں اداروں کو بتایا ہے کہ ماسکو میں تعینات اسرائیلی سفیر سے کہا گیا ہے وہ منگل کی شام وزارتِ خارجہ کے دفتر آئیں۔

صحافیوں کے اس سوال پر کہ کیا اسرائیلی سفیر کو گزشتہ روز کے حملے کے تناظر میں طلب کیا گیا ہے، میخائل بوگدانووف نے صرف اتنا کہا کہ روسی سفارت کار اسرائیلی سفیر سے شام کی جنگ سے متعلق کئی معاملات پر بات کرنا چاہتے ہیں۔

اسرائیل نے تاحال پیر کو علی الصباح وسطی شام میں واقع 'ٹی 4' نامی فوجی اڈے پر فضائی حملے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

اس حملے میں غیر سرکاری ذرائع کے مطابق کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں مبینہ طور پر شام کی سرکاری فوج کی اتحادی ایرانی ملیشیا کے بعض ارکان بھی شامل ہیں۔

شام نے ابتداً اس حملے کا الزام امریکہ پر عائد کیا تھا جس کی امریکی فوج نے تردید کی تھی۔

بعد ازاں روس کی وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ شامی فوجی اڈے پر حملہ اسرائیل کے دو طیاروں نے کیا جنہوں نے لبنان کی فضائی حدود سے فوجی اڈے پر میزائل فائر کیے۔

شام میں باغیوں کے زیرِ قبضہ ایک علاقے میں امریکی فوجی ایک چوکی پر تعینات ہیں۔
شام میں باغیوں کے زیرِ قبضہ ایک علاقے میں امریکی فوجی ایک چوکی پر تعینات ہیں۔

شامی فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے بھی حملے میں اسرائیل کے ملوث ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ شامی فوج نے ہوائی اڈے پر مارے جانے والے پانچ میزائل مار گرائے تھے لیکن تین میزائلوں نے ہوائی اڈے کے ایک حصے کو نقصان پہنچایا۔

اطلاعات ہیں کہ حملے کا نشانہ بننے والے فوجی اڈے پر روس کے فوجی دستے اور طیارے بھی موجود ہیں۔ لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا اس فضائی حملے میں روس کا بھی کوئی جانی یا مالی نقصان ہوا ہے۔

دریں اثنا شام کی حکومت نے امریکہ کی جانب سے فضائی حملے کے خدشے کے پیشِ نظر ملک بھر میں اپنے فوجی اڈوں اور چوکیوں پر تعینات اہلکاروں کو انتہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے دوما میں ہفتے کو مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں شامی حکومت کو "سبق سکھانے" کی دھمکی دی تھی اور اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ان حملوں کے جواب میں شامی حکومت کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے پر غور کر رہے ہیں۔

شام میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں اور باغی تنظیموں نے اس کیمیائی حملے کا الزام شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت پر عائد کیا ہے جس کی شامی حکومت اور اس کے اتحادی روس نے تردید کی ہے۔ مبینہ کیمیائی حملے میں اطلاعات کے مطابق عورتوں اور بچوں سمیت 40 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

شام میں سرگرم غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق شامی حکومت نے امریکہ کی جانب سے حملے کے خطرے کے پیشِ نظر پیر کی رات اپنے فوجی دستوں کو آئندہ 72 گھنٹے تک انتہائی چوکنا رہنے اور اپنے ٹھکانے مستحکم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ شامی فوج کی اتحادی لبنانی شیعہ تنظیم حزب اللہ اور ایرانی ملیشیاؤں کے جنگجو بھی فضائی حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر مشرقی شام کے کئی مقامات پر اپنے مورچوں سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG