رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کو اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنا چاہیئے: نیتن یاہو


اسرائیلی وزیر اعظم کے بقول، ''یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے، اور یہ بات کیسے مناسب ہوگی کہ صرف امریکی سفارت خانہ یہاں نہ ہو جب کہ باقی تمام سفارت خانے یہیں پر ہوں گے، اور مجھے یقین ہے کہ کچھ ہی عرصے کے اندر زیادہ تر سفارت خانے یروشلم آ چکے ہوں گے''

اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو نے اتوار کے روز کہا ہے کہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کیا جانا چاہیئے، جس سے وہ اُس میدان میں کود پڑے ہیں جس کا اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا۔

نیتن یاہو کا اپنی کابینہ کےہفتہ وار اجلاس میں یہ بیان بظاہر اُن خبروں کو مسترد کرتا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایسے کسی اقدام سے پیدا ہونے والے نتائج پر اسرائیل میں تشویش پائی جاتی ہے، جس کی فلسطینی شدید مخالفت کرتے ہیں اور جس کے نتیجے میں تشدد کی نئی لہر پیدا ہوگئی ہے۔

اِس سے ایک ہی روز قبل نیتن یاہو نے میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار تعمیر کرنے کے ٹرمپ کے مطالبے کی یکطرفہ تائید کی تھی، یہ کہتے ہوئے کہ اسی طرح کی ایک مثال یہ ملتی ہے کہ اسرائیل نے مصر کی سرحد کے ساتھ دیوار کھڑی کی تھی، جس کے کامیاب نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

نیتن یاہو کے بقول، ''میں یہ بات واضح کردوں کہ ہمیشہ سے ہمارا یہ موقف رہا ہے، اور اب بھی یہی موقف ہے کہ امریکہ کا سفارت خانہ یروشلم ہی میں ہونا چاہیئے''۔

اُنھوں نے کہا کہ ''یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے، اور یہ بات کیسے مناسب ہوگی کہ صرف امریکی سفارت خانہ یہاں نہ ہو جب کہ باقی تمام سفارت خانے یہیں پر ہوں گے، اور مجھے یقین ہے کہ کچھ ہی عرصے کے اندر زیادہ تر سفارت خانے یروشلم آ چکے ہوں گے''۔

موجودہ وقت، تقریباً تمام غیر ملکی سفارت خانے تل ابیب کے ساحلی شہر میں واقع ہیں کیونکہ اُن کے ملکوں نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے احتراز کیا ہے، جب تک کہ مستقبل کے امن مذاکرات میں اس معاملے کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ ایک طویل مدت سے اسرائیل کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ تمام سفارت خانے منتقل کیے جائیں، لیکن اس معاملے کو شد و مد سے پیش نہیں کیا، چونکہ بین الاقوامی طور پر اس کی مخالفت کی جاتی ہے۔

لیکن، ٹرمپ کے اقتدار میں آنے سے اسرائیل کے قوم پرستوں کو تقویت ملی ہے۔ اُن کی انتخابی مہم کے دوران فلسطینی ریاست کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا، جو کہ خطے میں دو دہائیوں سے جاری بین الاقوامی سفارت کاری کا مرکزی نقطہ رہا ہے، اور اُنھوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے بستیوں کی تعمیر کے معاملے پر اپنے پیش روں کے برعکس زیادہ برداشت کا مظاہرہ کریں گے۔

اسرائیل کے لیے اُن کے نامزد سفیر، ڈیوڈ فرائڈمن اور اُن کےداماد، جریڈ کُشنر، جو اب مشرق وسطیٰ کے ایلچی اور اُن کے چوٹی کے مشیر ہیں، اُن کے نو آبادکاری کی تحریک سے گہرے مراسم ہیں۔ فرائڈمن اور کُشنر کی خاندانی تنظیم 'بیت ال' کی بستی کی تعمیر کے لیے دل کھول کر چندہ دیتے رہے ہیں، جب کہ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں آباد کاروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک وفد کو مدعو کیا گیا تھا۔

فلسطینی مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کو اپنے مستقبل کی ریاست کا حصہ گردانتے ہیں، جن پر سنہ 1967 کی مشرق وسطیٰ کی لڑائی کے دوران اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا۔ باقی بین الاقوامی برادری کی طرح، سابق صدر براک اوباما بستیوں کی تعمیر کو امن کی راہ میں رکاوٹ خیال کرتے تھے، اور اکثر و بیشتر اِن کی تعمیر پر تنقید کیا کرتے تھے۔ لیکن، گذشتہ ہفتے جب اسرائیل نے گھروں کی تعمیر کے ایک بڑے منصوبے کا اعلان کیا، ٹرمپ نے اُس پر کوئی بیان نہیں دیا۔

کابینہ کے اجلاس کے بعد، نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ اُن کی حکومت ایک قانون سازی متعارف کرانے والی ہے، جس کی منظوری کے بعد اس ہفتے کے اواخر میں مغربی کنارے میں درجنوں بستیوں کی تعمیر کو قانونی حیثیت مل جائے گی۔

مغربی کنارے میں تقریباً 100 چوکیاں قائم ہیں جنھیں اسرائیل ناجائز قرار دیتا ہے، لیکن اُنھیں برداشت کرتا ہے اور اکثر اُنھیں پنپنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ مجوزہ قانون سازی آبادکاری کی حامی، 'یہودی ہوم پارٹی' کی نگرانی میں پیش کی جا رہی ہے، جس نے نیتن یاہو کے اتحاد سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دے رکھی ہے، اگر اتحاد اُن کے موقف کی حمایت نہیں کرتا۔

XS
SM
MD
LG