رسائی کے لنکس

امریکہ نے ایرانی رہنما خامنہ ای کی فاؤنڈیشن پر پابندیاں عائد کر دیں


ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای، فائل فوٹو

امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے جن کے تحت ایرانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای کی قائم کردہ تنظیم 'بنیاد مستصعفان​' کو بلیک لسٹ کیا جا رہا ہے۔

امریکی وزارتِ خزانہ کے مطابق بنیاد مستصعفان، جسے خیراتی ادارہ کہا جاتا ہے ایک مالدار کمپنی ہے۔

وزارت خزانہ نے کہا کہ بنیاد مستصعفان بظاہر ایک خیراتی ادارہ ہے جس سے غربا اور پسے ہوئے لوگوں کو امداد دی جاتی ہے اور اس تنظیم کے لیے فنڈز ایرانی لوگوں سے اکٹھا کیا جاتا ہے۔ لیکن اس سے جمع شدہ رقم کو سپریم لیڈرخامنہ ای اپنے منصب کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ ان رقوم کو اپنے سیاسی اتحادیوں کو نوازنے اور حکومت مخالفین کو سزا دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

نئی پابندیوں کا اطلاق 10 شخصیات، اور فاؤنڈیشن کے پچاس ذیلی اداروں پر ہو گا جن میں ان کے مالیات کے شعبے شامل ہیں۔ ان اداروں کے امریکہ میں اثاثے منجمند کر دیے گئے ہیں۔

ایران کا زیر زمین جوہری پلانٹ جہاں حال ہی میں یورینم کی افزودگی شروع کی گئی ہے۔
ایران کا زیر زمین جوہری پلانٹ جہاں حال ہی میں یورینم کی افزودگی شروع کی گئی ہے۔

بدھ کو عائد کی جانے والی پابندیاں امریکہ کی طرف سے ایران پر زیادہ سے زیادہ دباو ڈالنے کی مہم کا حصہ ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں امریکہ کو ایران کے ساتھ 2015 میں ہونے والے اوباما دور کے بین الاقوامی ایٹمی معاہدہ سے علیحدہ کر لیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے تہران پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں جس سے ایران کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

2020 کے آغاز میں امریکہ اور ایران ایک دوسرے سے جنگ کے دہانے پر تھے۔ امریکہ نے تین جنوری کو ایک کارروائی کے دوران ایران کے میجر جنرل قاسم سلیمانی کو خطے میں کئی حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام لگا کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد ایران میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔

ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل کے حملہ کر کے اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ اس حملے میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہہں ہوا اور اس طرح جنگ کا خطرہ ٹل گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG