رسائی کے لنکس

logo-print

فوری طور پر ایران پر پابندیوں کی حمایت نہیں کر سکتے: سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ


اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ امریکی مطالبے پر ایران پر دوبارہ پابندیاں اس وقت تک نہیں لگا سکتی جب تک سیکیورٹی کونسل اس کی منظوری نہ دے۔

انتونیو گوتیرس کی جانب سے سیکیورٹی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک غیر یقنی صورتِ حال ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران سے پابندیاں ہٹانے کی قرارداد کو 'سنیپ بیک' کیا ہے یا نہیں جو 2015 میں ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کی بنیاد تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ہفتے کو یہ اعلان کیا تھا کہ ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی تمام پابندیاں بحال ہو گئی ہیں۔ لیکن جوہری معاہدے میں شامل ممالک اس اقدام کی حمایت نہیں کر رہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معاملہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایک تنازع بن کر اُبھر سکتا ہے جو اس سال کرونا وبا کی وجہ سے ورچوئل یعنی آن لائن ہو رہا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے ہفتے کی شام جاری کیے گئے بیان میں ایران کو دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے اور یہودیوں کی دُشمن ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ تھا کہ اس پر دوبارہ پابندیوں کا اطلاق ہفتے کی شام سے ہو گیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے اس فیصلے سے ایک ماہ قبل سیکیورٹی کونسل کو باضابطہ طور پر خط لکھ کر آگاہ بھی کیا تھا۔

لیکن 15 رُکنی سیکیورٹی کونسل کے بیشتر اراکین ان امریکی اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں مسترد کر چکے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو (فائل فوٹو)
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو (فائل فوٹو)

گزشتہ ماہ امریکہ نے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرانے کے لیے سیکیورٹی کونسل میں قرارداد بھی پیش کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔

سیکیورٹی کونسل کے رُکن ممالک کا موقف تھا کہ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے یا 'سنیپ بیک' کا اختیار معاہدے میں شامل ممالک کا ہے۔ لیکن امریکہ کا یہ موقف رہا ہے 2018 میں جوہری معاہدے سے الگ ہونے کے باوجود امریکہ قانونی طور پر دوبارہ ایران پر پابندیاں لگا سکتا ہے۔

گوتیرس نے اپنے خط میں مزید لکھا ہے کہ ایک ماہ قبل امریکی وزیر خارجہ کے خط کے باوجود سیکیورٹی کونسل کے رُکن ممالک یا صدر نے کوئی قدم کیوں نہیں اُٹھایا۔

اُنہوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران سیکیورٹی کونسل کے رُکن ممالک نے صدر کو خط لکھا کہ امریکی وزیر خارجہ کا خط واضح نہیں کرتا کہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔

گوتیرس نے کہا کہ اگست اور ستمبر میں سیکیورٹی کونسل کے صدور نے بھی یہ تاثر دیا کہ وہ اس ضمن میں کچھ بھی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’اقوام متحدہ اس معاملے پر کوئی قدم نہیں اٹھائے گی جب تک کہ سیکیورٹی کونسل کی جانب سے کوئی وضاحت نہ آ جائے۔‘‘

چین اور روس امریکہ کے موقف کو رد کر رہے ہیں لیکن امریکی اتحادی بھی اس کے موقف کی تائید نہیں کر رہے۔

جمعے کو برطانیہ، فرانس اور جرمنی جو اس معاہدے میں شامل تھے نے سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں کہا تھا کہ امریکی اعلان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ اس لیے وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں نہیں لگا رہے۔

ایران نے ہفتے کو سلامتی کونسل کو لکھے گئے اپنے خط میں کہا ہے کہ امریکی اقدام بے اثر ہے، اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور یہ ناقابل قبول ہے۔

وائٹ ہاؤس پیر کو ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کا طریقہ کار وضح کیا جائے گا۔

مائیک پومپیو نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکہ اُمید کرتا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے رُکن ممالک اپنی ذمہ داری پوری کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’’اگر اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے اس ضمن میں امریکہ کا ساتھ نہ دیا تو امریکہ یقینی بنائے گا کہ ایران امریکی معیشت سے کسی بھی قسم کا فائدہ حاصل نہ کر سکے۔"

XS
SM
MD
LG