رسائی کے لنکس

بھارتی فلمیں، ترک ڈرامے اور کوریائی موسیقی


فاطمہ بھٹو، فائل فوٹو

امریکہ نے ایک عرصے تک دنیا پر بلا شرکت غیرے حکومت کی ہے لیکن اب اس کا سورج گہنا رہا ہے۔ بھارت، ترکی اور کوریا اسے چیلنج کر رہے ہیں اور بازی پلٹ رہی ہے۔ فاطمہ بھٹو نے اپنی نئی کتاب میں یہ خیال پیش کیا ہے اور اس کے حق میں اہم مثالیں پیش کی ہیں۔

یہاں سیاسی یا فوجی بالادستی کی بات نہیں ہو رہی۔ فاطمہ بھٹو نے انٹرٹینمنٹ کی دنیا کا جائزہ لیا ہے اور بتایا ہے کہ امریکہ کی موسیقی اور فلم کی صنعت کو مشرق کی جانب سے سخت مقابلہ درپیش ہے اور اسے شکست کا سامنا ہے۔

فاطمہ بھٹو کی نئی کتاب کا نام ’’نیو کنگز آف دا ورلڈ، ڈسپیچز فرام بالی ووڈ، ڈیزی اینڈ کے پوپ‘‘ہے یعنی دنیا کے نئے بادشاہ، بالی ووڈ، ڈیزی اور کے پوپ کے مراکز سے مراسلے۔

انھوں نے یہ کتاب لکھنے کی خاطر جنوبی ایشیا کے علاوہ دبئی، ترکی، لبنان، پیرو اور جنوبی کوریا کے سفر کیے اور سیلی بریٹیز سمیت بہت سے لوگوں سے ملیں۔ لیکن کوئی یہ نہ سمجھے کہ نان فکشن کتاب ہے تو خشک ہو گی۔ ایسا نہیں ہے۔ موضوع بھی رسیلا ہے اور تحریر میں بھی چاشنی موجود ہے۔

فاطمہ بھٹو نے کتاب میں بتایا ہے کہ عالمی سطح پر ذوق میں رونما ہونے والی تبدیلی کا تعلق کیبل کنکشنز سے نہیں بلکہ آبادی کی ہئیت سے ہے۔ صرف 2015 میں دنیا بھر میں ایک ارب افراد نے بہتر زندگی کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑا۔ لوگ جب ایک سے دوسری جگہ جاتے ہیں تو ان کی ثقافت اور دلچسپیاں بھی ان کے ساتھ ہوتی ہیں۔ وہ ہر شے میں مماثلت تلاش کرتے ہیں اور اس میں اپنی زندگی کی جھلک دیکھنا چاہتے ہیں۔

ترکی میں سلسلے وار ڈرامے کو ڈیزی کہتے ہیں۔ کتاب میں بیان کیا گیا ہے کہ ترک ڈرامے کیوں دنیا بھر میں مقبول ہو رہے ہیں۔ ایسے مقبول کہ امریکی سوپ بولڈ اینڈ بیوٹی فل کا 2008 میں ڈھائی کروڑ لوگوں کے دیکھنے کا ریکارڈ ایک ترک ڈرامے نے 2016 میں توڑ دیا جسے 20 کروڑ افراد نے دیکھا۔

ترک ڈرامہ ارطغرل بھی پاکستان اور کئی ملکوں میں بہت مقبول ہوا۔ حتیٰ کہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستانی عوام سے کہا کہ اس ڈرامے کو دیکھیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نئی عثمانیہ تحریک جڑ پکڑ چکی ہے۔

بعض خبروں کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود لوگ ارطغرل دیکھتے رہے۔ فاطمہ بھٹو نے لبنان میں شامیوں کے پناہ گزیں کیمپ کا دورہ کیا تو وہاں ایک لڑکی خدیجہ نے بتایا کہ وہ ترک ڈرامے دیکھتی ہے۔ اس نے کہا، ’’میں جنگ کے حالات میں جی رہی ہوں۔ میں رومان دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘

فاطمہ بھٹو نے بتایا کہ گوئٹے مالا کی ایک غریب لڑکی مغربی سیریل ’’گرلز‘‘ میں ملینئل نسل کے مقابلے میں خود کو ترک ڈرامے عشق ممنوع میں دکھائی گئی لڑکی سے زیادہ قریب پاتی ہے جس کی شادی ایک بڑی عمر کے امیر شخص سے کر دی جاتی ہے۔

یہی معاملہ بھارتی فلموں کا ہے جنھیں بمبئی کی فلمی صنعت کی وجہ سے بالی ووڈ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ایک فلم بادشاہ میں مرکزی کردار کرنے کی وجہ سے شاہ رخ خان کو بالی ووڈ کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ ان کے پرستار پوری دنیا میں ہیں۔ پشاور کے قصہ خوانی بازار میں ان کی تصویریں اس لیے لگی نظر آتی ہیں کیونکہ ان کے خاندان کا تعلق پشاور سے ہے۔ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں بھی ان کی فلمیں دیکھی جاتی ہیں اس لیے ان کے چاہنے والوں کا ہونا تعجب کی بات نہیں لیکن حیرت کا سبب یہ ہے کہ لاطینی امریکہ کے ملک پیرو میں شاہ رخ خان کے فین کلب موجود ہیں۔ ان کے رکن ایشیائی نژاد نہیں بلکہ مقامی افراد ہیں۔ فاطمہ بھٹو نے ایک 72 سالہ بیوہ خاتون سے گفتگو کی جو کینسر سے شفایاب ہوئی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ مشکل وقت میں شاہ رخ خان کی فلمیں دیکھنے سے انھیں سکون ملتا تھا۔

فاطمہ بھٹو نے اس باب میں بھارت میں نیو لبرلزم اور ہندو توا کے فروغ پر بھی تفصیل سے بات کی جس کی بدولت گزرتے برسوں میں بالی ووڈ کی فلموں میں بدلتے ہوئے موضوعات سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔

آخری بیس صفحات میں فاطمہ بھٹو نے دنیا بھر میں پوپ موسیقی کی مقبولیت کے بارے میں لکھا ہے۔ کے پوپ کے گیت گینگم اسٹائل کی وڈیو نے تمام ریکارڈ توڑ دیے تھے اور 2012 میں یوٹیوب پر ایک ارب بار دیکھی جانے والی یہ پہلی وڈیو بن گئی تھی۔ یہ موسیقی اور ایسی وڈیوز ہر ملک میں توجہ کا مرکز بن رہی ہیں اور انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں امریکہ کو چیلنج کر رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG