رسائی کے لنکس

ترک ڈراموں کی وجہ سے ترکی جانے والے پاکستانیوں میں اضافہ


فائل فوٹو

پاکستان میں گزشتہ سات، آٹھ سالوں کے دوران ترکی کے ڈرامے اردو ترجمے اور ڈبنگ کے ساتھ پیش کیے جانے کے بعد پاکستانی شہریوں کے ترکی دیکھنے اور ترک زبان سیکھنے کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے 'اناطولو' کے مطابق ایک ٹریول ایجنسی کے اہلکار کا کہنا ہے کہ 2013 میں 34 ہزار پاکستانی سیاحوں نے ترکی کا دورہ کیا تھا جب کہ 2018 میں یہ تعداد بڑھ کر ایک لاکھ 13 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ 2019 کے آخر تک توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد پاکستانی ترکی کا دورہ کر چکے ہوں گے۔

پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز نے 2013 میں ترکی کی 11 ڈرامہ سیریل اور دو فلمیں اردو ترجمے کے ساتھ پیش کیں۔ جنہیں پاکستانی ناظرین نے بہت پسند کیا۔ ڈرامہ سیریل 'عشق ممنوع' کو خاص طور پر پاکستانی ناظرین کی جانب سے خوب پذیرائی ملی۔

ترک حکام کے مطابق ان ڈراموں میں دکھائے جانے والے مناظر اور ترکی کی خوبصورتی نے بہت سے پاکستانیوں کو متاثر کیا۔ اور 2013 کے بعد سے ترکی آنے والے پاکستانی سیاحوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اسلام آباد میں قائم سیفر ترک ٹریول ایجنسی کے منیجر اینجن توکل نے 'اناطولو' کو بتایا کہ پاکستانی شہری ترک ڈراموں کے مناظر کا حوالہ دے کر ان مقامات پر جانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔

لاہور ترکش کلچرل سینٹر کی ڈائریکٹر الاس ارتاس کہتی ہیں کہ نہ صرف لوگ ترکی جانا چاہتے ہیں بلکہ ترک زبان سیکھنے کے رجحان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے بقول پاکستان میں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) میں ترک زبان سیکھنے والے طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی طالبہ ثنا نور نے بتایا کہ وہ گزشتہ چار سال سے ترک زبان سیکھ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بچپن سے ہی ترک ثقافت اور وہاں کے رہن سہن سے متعلق جاننا چاہتی تھیں۔ ثنا کے بقول ترکی کے ڈرامے دیکھنے کے بعد ان کی دلچسپی اور بھی بڑھ گئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG