رسائی کے لنکس

رویتِ ہلال سے متعلق نیا مسودۂ قانون تیار


فائل فوٹو

مجوزہ قانون میں ان ٹی وی چینلز کے خلاف بھی تادیبی اقدام کرنے کا کہا گیا ہے جو مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے باضابطہ اعلان سے قبل ہی چاند نظر آنے کا اعلان کریں گے۔

پاکستان کی حکومت بظاہر چاند کی رویت سے متعلق برسوں سے چلے آ رہے 'تنازع' سے نمٹنے کے لیے ایک نیا قانون بنانے جا رہی ہے جس کا مسودہ وزارتِ مذہبی امور نے وفاقی کابینہ کو ارسال کر دیا ہے۔

رویتِ ہلال بل 2017ء میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی تشکیلِ نو کرتے ہوئے تجویز دی گئی ہے کہ اس کمیٹی سے قبل چاند نظر آنے کا اعلان کرنے والوں کو ایک سال قید اور دو لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے خاص طور پر ماہِ رمضان اور شوال کا چاند نظر آنے پر اختلافات چلے آ رہے ہیں اور پشاور کی تاریخی مسجد قاسم خان کے پیش امام کی سربراہی میں قائم ایک غیر سرکاری کمیٹی گزشتہ کئی برسوں سے مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی سے ایک روز قبل ہی چاند کی رویت کا اعلان کرتی رہی ہے۔

اس بنا پر پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا میں رمضان کا آغاز ملک کے دیگر حصوں سے ایک روز قبل اور اسی طرح عیدالفطر اور بعض اوقات عید الاضحیٰ بھی ایک روز قبل منائی جاتی رہی ہے۔

اس غیر سرکاری کمیٹی کا دعویٰ رہا ہے کہ وہ صوبے کے مختلف حصوں سے موصول ہونے والی شہادتوں کی بنا پر چاند نظر آنے کا اعلان کرتی ہے۔

مجوزہ قانون میں ان ٹی وی چینلز کے خلاف بھی تادیبی اقدام کرنے کا کہا گیا ہے جو مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے باضابطہ اعلان سے قبل ہی چاند نظر آنے کا اعلان کریں گے۔

ایسے ٹی وی چینلز کو 10 لاکھ روپے جرمانہ اور لائسنس کی معطلی کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ مزید برآں چاند نظر آنے کی جھوٹی شہادت دینے والے کے لیے چھ ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے کا کہا گیا ہے۔

مسودۂ قانون میں کمیٹی کی تنظیم سے متعلق کہا گیا ہے کہ اس میں چاروں صوبوں سے دو دو، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر، قبائلی علاقوں، گلگت بلتستان اور اسلام آباد سے ایک، ایک رکن شامل کیا جائے گا جب کہ محکمۂ موسمیات اور خلائی تحقیق کے کمیشن "سپارکو" اور وزارت مذہبی امور سے بھی ایک، ایک نمائندہ کمیٹی کا رکن ہو گا۔

کمیٹی کے چیئرمین کی معیاد تین سال تک ہو گی اور اس منصب پر تعیناتی چاروں صوبوں سے باری باری کی جائے گی۔

وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد اس مسودۂ قانون کو پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG