رسائی کے لنکس

پشاور کی مسجد قاسم علی خان کے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی عدم موجودگی میں مولانا عبدالطیف شاکر نے ہفتے کی شام اعلان کہ انہیں چاند نظر آنے کی 46 شہادتیں موصول ہو گئی ہیں جن کے مطابق عیدالفطر اتوار کو منائی جائےگی۔

پاکستان میںماضی کی طرح اس سال بھی دو عیدیں منانے کے امکانات واضح ہوگئے ہیں۔

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا مرکزی ، ضلعی اور علاقائی اجلاس اتوار کی شام ہو گا تاہم مقامی الیکٹرونک میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا ہ کے شہر پشاور کی مسجد قاسم علی خان کے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی ملک میں عدم موجودگی کے باعث مولانا عبدالطیف شاکر نے ہفتے کی شام نہ صرف چاند دیکھنے کے لئے اجلاس طلب کیا بلکہ اس میں یہ اعلان بھی کردیا کہ انہیں چاند نظر آنے کی 46 شہادتیں موصول ہو گئی ہیں جن کے مطابق عیدالفطر اتوار کو منائی جائےگی۔

پاکستان میں ہفتے کو 28 واں روزہ تھا تاہم مفتی پوپلزئی اور ان کے پیروں کاروں نے رمضان کا پہلا روزہ بھی ملک بھر سے ایک روز پہلے یعنی27 مئی کو رکھا تھا جس کے مطابق ہفتے کو وہاں 29 واں روزہ شمار ہوا۔

مولانا شاکر کا کہنا ہے کہ آج خبیر پختون خوا میں 29 واں روزہ تھا اس لئے رویت ہلال کے لئے اجلاس طلب کیا گیا اور 46 شہادتیں ملنے کے بعد اتوار کو عید منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ادھر علماء کی اکثریت ،ماہرین فلکیات اور محکمہ موسمیات اس بات پر متفق ہیں کہ شوال کا چاند اتوار 29 رمضان بمطابق 25 جو ن کو نظر آنے کے واضح امکانات ہیں جس کی رو سے عیدالفطر پیر کو منائی جائے گی۔

اگر خیبر پختون خوا یا اس کے کچھ علاقوں میں اتوار کو عید منائی گئی تو یہ پہلا موقع نہیں ہو گا بلکہ ماضی میں بھی مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے پیروکار اور ملک کی بقیہ عوام ایک ہی ملک میں دو مختلف دن عیدیں منائے گی۔

عید کی تیاریاں عروج پر
ادھر کراچی سمیت ملک بھر میں عید کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ شہر کی تمام مارکیٹس میں خریداروں کا رش ہے۔ مارکٹیس نصف شب کے بعد تک کھلی رہتی ہیں۔ خریداروں میں سب سے زیادہ تعداد لڑکیوں اور خواتین کی ہے۔

یہ خواتین، کپڑوں، چپل جوتوں، مصنوعی زیورات ،پرس ، میچنگ کے سامان اور چوڑیوں کے ساتھ ساتھ بیوٹی پارلرز کے گرد بھی بڑی بڑی ٹولیوں کی شکل میں اپنی باری آنے کی منتظر نظر آتی ہیں جبکہ شہر کے بیشتر بیوٹی پارلرز نے پہلے ہی بکنگ بند کردی ہے۔

خواتین کو مہندی لگوانے کے لئے نہ صرف گھنٹوں کے حساب سے انتظار کرنا پڑ رہا ہے بلکہ لمبی لمبی قطاروں میں بھی لگنا پڑرہا ہے۔

شہر میں بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے بھی کہیں تل دھرنے کو جگہ نہیں۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے میں شام سے رات تک کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔

کوئٹہ اور پارہ چنار میں جمعہ کو ہونے والے دھماکوں کے بعد شہر میں سیکیورٹی انتظامات انتہائی سخت کردیئے گئے ہیں۔ پولیس اور رینجرز کے اہلکار جگہ جگہ ناکہ لگا کر ہر آنے جانے والے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

انتظامیہ نے دہشت گردی کے ناخوشگوار واقعات کو روکنے کے لئے شہر بھر میں انٹیلی جنس کا نیٹ ورک بچھایا ہوا ہے۔ جگہ جگہ سی سی ٹی کیمرے نصب ہیں جبکہ پولیس کے نوجوان کمانڈوز بھی شہر بھر میں تعینات کردیئے گئے ہیں۔

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے عید کے حوالے سے سیکیورٹی کے لئے فول پروف انتظامات کئے جانے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ فورسز نے رمضان بھر اور خاص کر گزشتہ دو تین دنوں کے دوران مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے جن سے تفتیش کی جارہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG