رسائی کے لنکس

نیوزی لینڈ: کیا جیسنڈا آرڈرن کو کامیابی کرونا حکمت عملی کی بدولت ملی؟


جیسنڈا آرڈرن اور نیشنل پارٹی کی رہنما جوڈتھ کولنز ایک مباحثے میں شریک ہیں۔
جیسنڈا آرڈرن اور نیشنل پارٹی کی رہنما جوڈتھ کولنز ایک مباحثے میں شریک ہیں۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔

جیسنڈا آرڈرن کی جماعت لیبر پارٹی نے لگ بھگ 50 فی صد نشستیں حاصل کیں جس سے کئی دہائیوں بعد ملک میں ایک ہی جما عت کی حکومت بننے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

انتخابات میں نیوزی لینڈ کے 35 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے لگ بھگ نصف نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق جیسنڈا نے اپنے پہلے دور اقتدار کے دوران کئی معاملات میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ لیکن کچھ مسائل پر ان کی کارکردگی اچھی نہ رہی۔ تاہم ماہرین کرونا وبا پر قابو پانے کی حکمتِ عملی کو اُن کی کامیابی کی ایک اہم وجہ قرار دے رہے ہیں۔

جیسنڈا آرڈرن کا مقابلہ دائیں بازو کی جماعت نیشنل پارٹی سے تھا جس کی قیادت جوڈتھ کولنز کر رہی تھیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق 40 سالہ جیسنڈا آرڈرن کو اب وہ انتخابی وعدے پورے کرنا ہوں گے جن پر پہلی مدت کے دوران عملدرآمد ممکن نہیں ہو سکا۔

خیال رہے کہ جیسنڈا آرڈرن نے گزشتہ حکومت میں قوم پرست جماعت کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی جب کہ اُنہوں نے نیوزی لینڈ میں ترقی، موسمی تبدیلیوں اور دیگر اصلاحات کے وعدے کیے تھے جو ماہرین کے بقول وہ پورے کرنے میں ناکام رہیں۔

لیکن کرونا وبا سے نمٹنے کی اُن کی حکمتِ عملی سے وہ دوبارہ عوام کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ انتخابات سے قبل بھی رائے عامہ کے جائزوں میں اُن کی دوبارہ کامیابی کے امکانات ظاہر کیے جا رہے تھے۔

جوڈتھ کولنز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اُنہوں نے شان دار کامیابی پر وزیر اعظم کو مبارک باد دی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق اب تک 95 فی صد ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ جیسنڈا آرڈرن کا کہنا ہے کہ وہ مکمل نتائج کا انتظار کریں گی۔ اُنہوں نے آٹھ فی صد ووٹ حاصل کرنی والی جماعت گرین پارٹی سمیت دیگر چھوٹی جماعتوں کو حکومت میں شامل کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

نیوزی لینڈ کے پارلیمانی انتخابات میں 120 نشستوں میں سے حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ تاہم اب تک کے نتائج کے مطابق لیبر پارٹی 63 نشستوں پر کامیابی حاصل کر چکی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سات ماہ کے دوران کرونا وبا نے رائے عامہ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

وبا سے قبل انتخابی وعدے پورے نہ کرنے پر جیسنڈا آرڈرن کو تنقید کا سامنا تھا۔ تاہم کرونا سے نمٹنے کی مؤثر حکمتِ عملی اور ملک سے کرونا وبا کے خاتمے نے عوام میں اُن کے اعتماد کو بحال کیا۔

نیوزی لینڈ میں ستمبر میں شیڈول انتخابات وبا کی دوسری لہر کے بعد ایک ماہ کے لیے 17 اکتوبر تک ملتوی کر دیے گئے تھے۔ چند روز قبل وزیر اعظم نے وبا کی دوسری لہر پر قابو پانے کا اعلان کیا تھا۔

گزشتہ سال مارچ میں کرائسٹ چرچ کی مساجد میں ہونے والے حملوں کے بعد بھی وزیر اعظم کے ردعمل کو نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ اس واقعے کے بعد انہوں نے اسلحہ کے کنٹرول کے لیے بھی اقدامات اٹھائے۔

ماہرین کے مطابق جیسنڈا نے وائٹ جزیرہ پر آتش فشاں پھوٹنے پر بھی ایک مؤثر کارکردگی دکھائی۔ اس جزیرہ کو 'وہکاری' بھی کہا جاتا ہے اور اس پر آتش فشانی کے واقع سے گزشتہ سال دسمبر میں 21 اموات ہوئی تھیں جبکہ دردجنوں افراد زخمی ہوئے۔

XS
SM
MD
LG