رسائی کے لنکس

پلوامہ حملہ: سازش پاکستان میں تیار ہونے کے بھارتی الزام پر اسلام آباد کی مذمت


فائل فوٹو

پاکستان نے بھارت کی جانب سے پلوامہ حملے کی سازش پاکستان میں تیار کیے جانے کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ان الزامات کے ذریعے کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

بدھ کو پاکستان کے دفتر خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاکستان مخالف بیانیے کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔

خیال رہے کہ این آئی اے نے جموں کی خصوصی عدالت میں پلوامہ حملوں سے متعلق فردِ جرم عائد کی تھی جس میں کالعدم جیشِ محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر سمیت 19 افراد کو پلوامہ حملے کا ذمہ دار ٹھیرایا گیا تھا۔

فروری 2019 میں پلوامہ میں بھارت کی سینٹرل ریزرو فورس کے قافلے پر ہونے والے خود کش حملے میں 40 سے زائد سیکیورٹی اہل کار ہلاک ہو گئے تھے۔

بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا تاہم پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا۔

این آئی اے کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی چارج شیٹ کے مطابق کالعدم جیشِ محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کے دو بھائیوں اور ایک بھتیجے پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

باقی ماندہ ملزموں کا تعلق بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے بتایا جا رہا ہے جن میں خود کش حملہ آور عادل ڈار بھی شامل ہے، جب کہ ایک خاتون پر بھی فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

پلوامہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔
پلوامہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔

جن سات ملزموں کو پہلے ہی گرفتار کیا جاچکا ہے، ان میں پلوامہ ہی سے تعلق رکھنے والی ایک 22 سالہ خاتون بھی شامل ہے۔ این آئی اے کے مطابق حملے کے بعد بنائی جانے والی ایک ویڈیو مذکورہ خاتون کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی تھی۔

مبینہ طور پر پاکستان میں مقیم مولانا مسعود اظہر، ان کے دو بھائیوں اور ایک پاکستانی شہری سمیت دو مقامی ملزمان کو مفرور قرار دیا گیا ہے۔

پانچ ملزمان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ عسکریت پسند تھے اور مختلف جھڑپوں میں مارے جا چکے ہیں۔ ان میں محمد عمر فاروق، ان کے دو مبینہ پاکستانی ساتھی محمد کامران علی اور قاری یاسر اور مقامی مشتبہ عسکریت پسند سجاد احمد بٹ اور مدثر احمد خان شامل ہیں۔

این آئی اے کی فردِ جرم میں کہا گیا ہے کہ خود کش حملہ آور نے دو سو کلو گرام دھماکہ خیز مواد سے لدی اپنی گاڑی کو سی آر پی ایف کے ایک قافلے میں شامل ایک بس کے ساتھ ٹکرا دیا تھا۔

اس میں کہا گیا ہے کہ بم بنانے کے لیے جو مواد استعمال کیا گیا اسے پاکستان سے غیر قانونی طور پر بھارتی کشمیر تک پہنچایا گیا۔

چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں داخل ہونے والے جیشِ محمد سے وابستہ عسکریت پسند یہ دھماکہ خیز مواد اپنے ساتھ لائے تھے۔

فردِ جرم میں الزام لگایا گیا ہے کہ حملے کی سازش پاکستان میں مقیم جیشِ محمد کی قیادت نے تیار کی تھی جسے پاکستانی ریاست کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔ لیکن اسے مقامی واقعہ ظاہر کرنے کے لیے مقامی نوجوان کو خود کش حملے کے لیے تیار کیا گیا۔

این آئی اے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جیشِ محمد نے بھارتی کشمیر میں اس نوعیت کی ایک اور کارروائی کا منصوبہ بنایا تھا، جسے 26 فروری کو پاکستان کے علاقے بالا کوٹ میں کارروائی کر کے ناکام بنا دیا گیا۔

بھارتی ایجنسی نے چارج شیٹ میں یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ جیشِ محمد کے عسکریت پسندوں کو القاعدہ، طالبان اور حقانی گروپ کے مراکز میں تربیت دی جاتی ہے۔

پلوامہ حملے کے فوری بعد پاکستان نے اس میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے حملے کے فوری بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ منصوبہ بھارت کے اندر ہی تیار ہوا اور اس میں مقامی افراد ہی ملوث تھے جو کشمیر میں بھارتی مظالم سے نالاں ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ فردِ جرم عائد کرنے کے لیے جس وقت کا انتخاب کیا گیا وہ بہت اہم ہے۔ کیوں کہ ریاست بہار میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ لہذٰا ہو سکتا ہے کہ حکمراں جماعت اس کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہو۔

یونیورسٹی آف کشمیر کے شعبہٴ سیاسیات کے سابق پروفیسر ڈاکٹر نور احمد بابا اس تاثر سے جزوی اتفاق کرتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ معمول کی کارروائی ہو لیکن ماضی میں اس طرح کے اقدامات اس وقت کیے جاتے رہے ہیں جب سیاسی اہداف کا حصول پیشِ نظر ہو۔

اُن کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کو داخلی اور خارجی محاذوں پر کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔ کرونا وبا سے پیدا ہونے والی صورتِ حال سے معیشت بھی سست روی کا شکار ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG