رسائی کے لنکس

نائیجیریا: کسانوں پر حملے میں کم از کم 110 افراد ہلاک


نائجیریا میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کی تدفین کی جا رہی ہے۔ 29 نومبر 2020
نائجیریا میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کی تدفین کی جا رہی ہے۔ 29 نومبر 2020

نائیجیریا کے شمال مغربی علاقے میں کسانوں پر ہونے حملے میں 110 کسان ہلاک ہونے ک خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حملے کا شبہ، اس علاقے میں متحرک اسلامی شدت پسندوں پر کیا جا رہا ہے۔

افریقی مماک کیلئے اقوام متحدہ کے انسانی امور سے متعلق رابطہ کار ایڈورڈ کیلون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ریاست بورنو کے ایک دیہات میں عام شہریوں پر ہونے والے دہشت ناک حملے پر وہ غم و غصے کے ساتھ خوف زدہ بھی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں کم از کم 110 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں اور اس سال عام شہریوں پر ہونے والا یہ سب سے زیادہ جان لیوا حملہ ہے۔ انہوں اس حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینٹونیو گٹریز کی ترجمان نے بھی ایک بیان میں اس دہشت ناک حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

اتوار کو دیر گئے جاری ہونے والے بیان میں، اینٹونیو گٹریز نے ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ اور نائیجیریا کے عوام سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی او اغوا اور لاپتا ہونے والے شہریوں کی جلد بازیابی کی خواہشات کا ظہار کیا ہے۔

گٹریز نے نائیجیریا کی حکومت کو دہشت گردی اور شدت پسندی کےخلاف جنگ اور ملک کے شمال مشرقی علاقے میں انسانی ضروریات کی فراہمی کیلئے اقوام متحدہ کی حمایت کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے۔

نائیجیریا کے صدر محمدو بوہاری کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بھی ان ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پورا ملک ان بے معنی ہلاکتوں پر غم میں ہے۔ بوہاری کا کہنا تھا کہ حکومت نے مسلح افواج کو ضروری اقدامات اٹھانے کیلئے وہ سب کچھ فراہم کیا ہے جن کی اسے ملک کی آبادی اور سرحدوں کی حفاظت کیلئے ضرورت ہے۔

ابھی تک کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم ماضی میں ایسے حملے اکثر بوکو حرام یا داعش کی جانب سے ہوئے ہیں۔ یہ گروپ شمال مشرقی نائیجیریا مییں متحرک ہیں جہاں ان دہشت گردوں نے کم ازکم 30000 افرا د کو ہلاک کیا ہے

XS
SM
MD
LG