رسائی کے لنکس

logo-print

نائیجیریا:امریکی شہریوں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری


امریکی حکام کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے بحری جہاز کے دیگر عملے کو رہا کردیا ہے۔ لیکن مغوی امریکی شہریوں کے بارے میں تاحال کچھ واضح نہیں کہ انھیں کہاں رکھا گیا ہے۔

نائیجیریا میں متعلقہ اداروں نے اُن دو امریکی شہریوں کی تلاش جاری رکھی ہوئی ہے جنھیں قزاقوں نے خلیجِ گنی کے ساحلی علاقے سے اغوا کر لیا تھا۔

ایک تیل بردار بحری جہاز کے کپتان اور چیف انجنیئر کو بدھ کے روز نائیجیریا کے ساحل کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں جہاز پر کیے گئے حملے کے دوران اغوا کر لیا گیا تھا۔

اڑسٹھ (68) میٹر لمبا سی-ریٹریور جہاز تیل کی صنعت سے متعلق امریکی کمپنی ایڈیسن کواسٹ آفشور کی ملکیت ہے۔ کمپنی نے اس واقعے پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے بحری جہاز کے دیگر عملے کو رہا کردیا ہے۔ لیکن مغوی امریکی شہریوں کے بارے میں تاحال کچھ واضح نہیں کہ انھیں کہاں رکھا گیا ہے۔

نائیجیریا کی فوج نے تلاش اور امدادی کارروائیوں کا حکم دے دیا ہے۔ حکام نے یہ بتانے سے انکار کیا ہے کہ ان کارروائیوں میں امریکی فوجی بھی شامل ہیں یا نہیں۔

امریکی دفاعی عہدیداروں کے مطابق وہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور ان کے بقول اس علاقے سے قریب ترین امریکی بحریہ کا ایک تربیتی یونٹ خلیج گنی میں موجود ہے۔

محکمہ خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے کہا ہے کہ امریکہ کو اس واقعے پر تشویش ہے اور حکام ’’اس صورتحال کو احسن طریقے سے حل‘‘ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

ہارف نے خلیج گنی میں قزاقوں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔ گوکہ دنیا کے دیگر خطوں میں قزاقوں کی کارروائی میں کمی دیکھی جارہی ہے لیکن اس علاقے میں ایسے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

سمندروں کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی بیورو کے ریکارڈ کے مطابق سال 2013 کی پہلی ششماہی میں تیل سے مالا مال مغربی افریقی خطے میں قزاقوں نے 31 حملے کیے ہیں۔
XS
SM
MD
LG