رسائی کے لنکس

logo-print

وادی نیلم میں پل ٹوٹنے سے ہلاکتوں کا ذمہ دار کون؟


وادی نیلم میں دریاؤں اور ندی نالوں پر کئی ایسے پل ہیں جو زیادہ بوجھ نہیں سہار سکتے۔

وادی نیلم جو جنگ بندی لائن پر امن کی وجہ سے گزشتہ چند برسوں سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ، وہاں مناسب حفاظتی انتظامات نہ  ہونے سے ایک درجن سے زیادہ  سیاح مختلف حادثات کا شکار ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر ہلاکتیں ڈوبنے سے ہوئیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سیاحت کے لیے مشہور وادی نیلم میں اتوار کے روز پیدل نالہ عبور کرنے کے لئے بنائے گئے پل کے ٹوٹنے سے نالے میں گرنے والے 25 سیاحوں میں 13 کو بچا لیا گیا جبکہ سات کی نعشیں نکالی جا چکی ہیں اور پانچ تاحال لاپتا ہیں ۔جن کی تلاش کے لیے فوجی اور سول اداروں کی امدادی ٹیمیں کام کر رہی ہیں ۔

وادی نیلم کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کرنے والی جنگ بندی لکیر پر واقع ہے ۔پہاڑوں، ندی نالوں، آبشاروں اور قدیم جنگلات کی وجہ سے ہر سال بالخصوص گرمیوں کے موسم میں سیاحوں کی ایک بڑی تعداد ادھر کا رخ کرتی ہے ۔ جن کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔

محکمہ سیاحت کے حکام کا کہنا ہے کہ وادی نیلم میں کٹن کے مقام پر جاگراں نالے پر نصب ہے ۔وہاں پہلے بھی اس نوعیت کے حادثات پیش آ چکے ہیں جس کی وجہ سے وہاں وارننگ سائن کے بورڈ نصب کیے گیے ہیں۔

وادی نیلم سے پاکستانی کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے رکن اور سپیکر شاہ غلام قادر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سیاحوں کی آمد بہت زیادہ ہے، جب کہ یہ زیادہ ترقی یافتہ نہیں ہے۔ حکومت بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر زور دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پیدل چلنے کے لیے بنایا گیا پل جو چار افراد کا بوجھ برداشت کر سکتا تھا، لیکن اس پر ایک ساتھ 28 افراد چلے گئے تھے جس کے باعث وہ ٹوٹ گیا۔

شاہ غلام قادر نے کہا کہ اس برس پچھلے برس سے زیادہ سیاحوں کی آمد متوقع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک نا خوشگوار واقعے سے سیاحوں کی آمد پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔

محکمہ سیاحت کے ناظم اعلیٰ جاويد ایوب نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سیاحوں کو خطرات سے آگاہ رکھنے کی بھر پور کوشش کی جاتی ہے ۔ جس کے لیے ٹورسٹ انفارمیشن سینٹر کئی علاقوں میں قائم ہیں ۔اور پولیس چیک پوسٹوں کے ذریعے بھی سیاحوں کی راہنمائی کی جاتی ہے ۔ لیکن احتياط نہ کرنے کی وجہ سے حادثات پیش آتے ہیں۔

جاويد ایوب نے بتایا کہ جس جگہ سیاح نالے میں گرے وہاں سائن بورڈ لکھ کر لگایا گیا ہے ۔جس پر درج ہے کہ یہاں سلفیاں بناتے ہوئے افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاحوں کے تحفظ کی ذمہ داری ٹورسٹ آپریٹروں پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ ان کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ سیاحوں کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کیے جانے کی ضرورت ہے۔ جس میں ایسے خطرناک مقامات پر ہجوم کو جانے سے روکنے کے لیے پولیس کی تعیناتی بھی شامل ہے۔

وادی نیلم جو جنگ بندی لائن پر امن کی وجہ سے گزشتہ چند برسوں سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ، وہاں مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے سے ایک درجن سے زیادہ سیاح مختلف حادثات کا شکار ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر ہلاکتیں ڈوبنے سے ہوئیں۔

حکام کے مطابق گزشتہ برس پاکستانی کشمیر کی سیاحت کے لیے آنے والوں کی 40 فی صد تعداد نے وادی نیلم کا رخ کیا تھا۔

ایک اور خبر کے مطابق بدھ کے روز دارالحکومت مظفر آباد سے تعلق رکھنے والے چار وکلا کی طرف سے نیلم ویلی کی سیاحت کے دوران فیصل آباد کے ایک نجی کالج اور ساہیوال کے ایک میڈیکل کالج کے طلبہ اور طالبات کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا ذمہ دار پاکستانی کشمیر کے وزیر سیاحت، ڈی سی نیلم، ڈی جی سیاحت، انچارج کٹن پراجیکٹ، چیئرمین لوکل گورنمنٹ تعمیراتی کمیٹی کو قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے لیے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کو درخواست دی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG