رسائی کے لنکس

logo-print

کیا رضوان کو غلط آؤٹ دیا گیا؟ سابق آسٹریلوی کھلاڑی برہم


آسٹریلیا کے شہر برسبین میں جاری آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان سیریز کے پہلے ٹیسٹ کے پہلے روز پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کو امپائر نے فاسٹ بالر پیٹ کمنز کی بظاہر نو بال پر آؤٹ قرار دے دیا۔

آن فیلڈ امپائر کی طرف سے انہیں آؤٹ قرار دینے کے بعد تھرڈ امپائر مائیکل گاؤ نے بار بار اس بال کی ویڈیو دیکھی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا بالر کمنز کے پاؤں کا کچھ حصہ بالنگ کرتے ہوئے سفید لکیر سے پیچھے تھا یا نہیں۔

ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ان کی ایڑھی سفید لائن کے اوپر تھی اور اس سے پیچھے نہیں تھی۔ تاہم، ویڈیو بار بار دیکھنے کے بعد تھرڈ امپائر نے آن لائن امپائر کے فیصلے کو برقرار رکھا، اور یوں، محمد رضوان کو بظاہر ایک نو بال پر آؤٹ قرار دے دیا گیا۔

محمد رضوان نے اس وقت 34 گیندوں پر سات چوکوں کی مدد سے 37 رنز بنا رکھے تھے۔

کرکٹ کے قوانین کی رو سے اگر یہ بات واضح طور پر ثابت نہیں ہوتی کہ بالر کے پاؤں کا کچھ حصہ سفید لائن سے پیچھے تھا یا نہیں تو فیصلہ بیٹسمین کے حق میں کر دیا جاتا ہے۔ تاہم، برسبین ٹیسٹ میں ایسا نہیں ہوا اور تھرڈ امپائر کے فیصلے سے ایک بحث چھڑ گئی ہے جس میں آسٹریلیا کے متعدد سابق عظیم کرکٹرز نے امپائر کے اس فیصلے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

آسٹریلیا کے سابق عظیم سپن بالر شین وارن نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔

آسٹریلیا کے سابق کپتان رکی پونٹنگ کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے پر ششدر رہ گئے۔ انہوں نے ’چینل سیون‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بالر کمنز کے پاؤں کا کوئی بھی حصہ سفید لائن سے پیچھے نہیں تھا اور اس بارے میں کوئی شبہہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔

کرکٹر ایڈم گلکرائسٹ کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک یہ ڈیلیوری غیر قانونی تھی کیونکہ بالر کے پاؤں کا تمام تر حصہ سفید لائن پر تھا، اس کے پیچھے نہیں۔ لہذا، یہ نو بال تھا۔

خود بالر پیٹ کمنز نے کرکٹ 360 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نظر سکور بورڈ پر تھی جہاں دیکھا گیا کہ وہ آؤٹ تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ کیا ہوا۔

پاکستانی ٹیم کے بالنگ کوچ وقار یونس کا کہنا تھا کہ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا اور یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ نو بال تھا یا نہیں۔ تاہم، وہ محسوس کرتے ہیں کہ اسے نو بال ہی قرار دیا جانا چاہیے تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG