رسائی کے لنکس

logo-print

نگران وزیر اعظم کے نام پر اتفاق نہیں ہوا


پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کے درمیان ہونے والی مشاورت میں نگران وزیر اعظم کے نام پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

سید خورشید شاہ نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ جمعے کو ان کی وزیر اعظم عباسی سے مختصر ملاقات ہوئی اور انہوں نے ان سے نگران وزیر اعظم کے نام کے معاملے پر آئندہ منگل کو دوبارہ غور کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

واضح رہے کہ موجودہ حکومت کی میعاد ختم ہونے کے بعد نگران وزیر اعظم کی قیادت میں ایک نگران حکومت قائم ہوجائے گی جو عام انتخابات کے بعد منتخب ہونے والی حکومت سے پہلے روزمرہ کے حکومتی امور سرانجام دے گی۔

اب جبکہ موجودہ حکومت ختم ہونے میں کچھ ہی دن باقی ہیں، بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عباسی اور قائد حزب اختلاف کو نگران وزیر اعظم کے نام پر اتفاق کر لینا چاہیئے تھا۔

دوسری طرف سیاسی امور کے تجزیہ کار احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ آئین کی رو سے قومی اسمبلی کے تحلیل ہونے کے تین دن کے اندر قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف نے نگران وزیر اعظم کے نام پر اتفاق کرنا ہوتا ہے۔

جمعے کو ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ "ابھی ان کے پاس وقت ہے۔ سرکاری طور پر قومی اسمبلی کے تحلیل ہونے کے بعد تین دن کے اندر قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کو (نگران وزیر اعظم) کے نام پر اتفاق کرنا ہوتا ہے۔ ابھی تو اسمبلی تحلیل نہیں ہوئی یہ 31 مئی کی رات کو تحلیل ہوگی۔ تو اس طرح 3 جون تک ان کے پاس وقت ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف یہ معاملہ طے کر لیں گے "میرے خیال میں دیر نہیں ہو رہی ہے اور اگر یہ اتفاق کر بھی لیں تو اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے۔ اس لیے، انہیں جلدی نہیں ہے۔‘‘

انہوں ںے مزید کہا کہ ان کے خیال میں کوئی مسئلہ نہیں ہونے والا۔ لیکن، اگر کوئی مسئلہ ہو بھی جاتا ہے تو بالآخر یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا اور وہ اس معاملے کو طے کر دیں گے، جیسا کہ انھوں نے 2013ء کے عام انتخابات سے پہلے نگران وزیر اعظم کا تقرر کیا تھا۔

آئین کے تحت اگر وزیرِ اعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف کے درمیان نگران وزیرِ اعظم کے نام پر اتفاق نہ ہوسکا تو یہ معاملہ پارلیمان کی آٹھ رکنی کمیٹی کو سونپ دیا جائے گا۔

اگر پارلیمانی کمیٹی بھی نگران حکومت کا معاملہ اتفاقِ رائے سے حل نہ کر سکے تو پھر یہ اختیار الیکشن کمیشن کو ہوتا ہے کہ وہ نگران وزیرِ اعظم مقرر کرے۔

موجودہ حکومت کی مدت 31 مئی کو ختم ہو جائے گی جس کے بعد 60 روز کے اندر ملک میں عام انتخابات منعقد ہوں گے۔ پاکستان کے وزیر اعظم عباسی متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ عام انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے جبکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ آئین میں انتخابات کے التوا کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ تاہم، ابھی تک الیکشن کمیشن کی طرف سے آئندہ عام انتخابات کا شیڈول جاری نہیں کیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG