رسائی کے لنکس

سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی آمریت قائم ہے اور ان کے بقول ملک میں جو ہو رہا ہے وہ کسی جوڈیشل مارشل لاء سے کم نہیں۔

عدالتی فیصلے کے نتیجے میں اپنے منصب سے علیحدہ ہونے والے نواز شریف اس سے قبل بھی اعلیٰ عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے تندوتیز بیانات دیتے رہے ہیں اور بظاہر چیف جسٹس کئی ایک تقاریب میں اپنے خطاب کے دوران اس کا جواب بھی دیتے نظر آئے۔

دو روز قبل ہی چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ جوڈیشل مارشل لاء کا تصور نہ تو ملک کے آئین میں ہے اور نہ ہی ان کے ذہن میں۔

لیکن پیر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ اتنی پابندیاں مارشل لاء میں نہیں لگائی گئیں جو ان کے بقول اب دیکھنے میں آ رہی ہیں اور آئے روز ایسے فیصلے دئے جاتے ہیں جن کی کوئی منطق نہیں ہوتی۔

انھوں نے ملک کے اعلیٰ ترین منصف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار روز اسپتالوں کا دورہ کرتے ہیں، سبزیوں کے نرخ پر بات کرتے ہیں۔ انھیں چاہیے کہ وہ کسی ایسے مظلوم کے گھر بھی جائیں جس کے مقدمے کا فیصلہ 20 سال سے نہیں ہوا۔

ادھر حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چیف جسٹس پر تنقید سے تو گریز کیا لیکن مشورے کے طور پر ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کو اپنے فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے ملک کی عدالتوں میں زیر التوا 18 لاکھ مقدمات کو نمٹانے پر بھی غور کرنا چاہیے جن کے فیصلوں کے لیے لوگ دہائیوں سے منتظر ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری (فائل فوٹو)
بلاول بھٹو زرداری (فائل فوٹو)

ملتان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ بہترین کام کر رہی ہے اور وہ چیف جسٹس کو از خود نوٹس لینے سے نہیں روک سکتے۔ تاہم اگر وہ ہمارا کام کرنا چاہتے ہیں تو شوق سے کریں۔ لیکن اپنا کام بھی طریقے سے انجام دیں کیونکہ اگر آپ یہ کام نہیں کریں گے تو پھر کون کرے گا۔

بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ وہ کسی کو روک نہیں سکتے ہیں لیکن تجویز ہے کہ اگر جج صاحبان تقاریر کے ذریعے اپنی باتیں کریں گے تو دوسروں کو ان پر تنقید کا موقع ملے گا۔

سیاسی امور کے سینیئر تجزیہ کار وجاہت مسعود کے خیال میں ایک ایسے وقت جب انتخابات میں کچھ ہی وقت رہ گیا ہے، ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں اور عدلیہ کی طرف سے ایسی بیان بازیاں صورتحال میں بگاڑ کا باعث بن سکتی ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس وقت عبوری محسوس ہو رہی ہے۔

"جو سوالات اور تحفظات لے کر ہمارے چیف جسٹس صاحب چل رہے ہیں عملی طور پر وہ ہی حکومت چلا رہے ہیں۔ حکومت کوئی کمیٹی بناتی ہے وہ اس کے ارکان کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ مرغی کے گوشت سے لے کر اسپتالوں کے معائنوں تک وہ سب نمٹا رہے ہیں تو یہ بڑی عجیب و غریب سی صورتحال ہے خاص طور پر اس لیے کہ یہ فعالیت ایک خاص وقت میں اچانک نمودار ہوئی ہے۔ اس وقت جب منتخب وزیراعظم کو نا اہل قرار دیا گیا۔ اس وقت جو حکومت ہے دراصل وہ عبوری حکومت ہے۔ وہ انتظار میں ہے کہ معیاد ختم ہو تو نئے انتخابات کروائے جائیں۔"

وجاہت مسعود نے کہا کہ اگر آئین کے مطابق شہریوں کو فوج اور عدلیہ پر تنقید کا حق نہیں تو اسی آئین میں ان دو اداروں کا دائرہ اختیار بھی درج ہے اور ان کے خیال میں عدلیہ کا وقار مجروح ہو رہا ہے۔

"چیف جسٹس کا کام مکالمے ادا کرنا نہیں ہے۔ وہ عدل کے سب سے بڑے منصبدار ہیں۔ جس طرح کے ریمارکس اور موضوعی ریمارکس وہ دے رہے ہیں اس سے عدلیہ کی ساکھ واقعتاً مجروح ہو رہی ہے۔"

چیف جسٹس ثاقب نثار اپنے ایک حالیہ خطاب میں بظاہر ایسی تنقید کے جواب میں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ہر عدالت میں جا کر اس کی کارکردگی بھی دیکھ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG