رسائی کے لنکس

افغانستان کی صورتِ حال: ’پاکستان ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے احتیاط سے چل رہا ہے‘


فائل فوٹو

افغان طالبان کے کابل میں داخل ہونے کے چار دن کے بعد پاکستان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ طالبان کا طرزِ عمل انہیں تسلیم کرنے کے فیصلہ پر اثر انداز ہوگا۔

پاکستان کے امریکہ میں سفیر کا کہنا ہے کہ پاکستان افغان طالبان کی حکومت کو یک طرفہ طور پر تسلیم نہیں کرے گا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا دنیا بھر کے لیے اہم فیصلہ ہے۔ پاکستان اس بارے میں جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔

امریکہ کے نشریاتی ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کے سفیر اسد مجید خان نے کہا کہ طالبان کس طرح پیش آتے ہیں اور ان کا طرزِ عمل کیا رہتا ہے یہ بھی پاکستان کے فیصلے پر اثر انداز ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد امریکہ سمیت عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور ہم عالمی برادری کی رہنمائی کی پیروی کی جائے گی تاکہ یہ دیکھا جس سکے کہ افغانستان میں حالات کیسے بدلتے ہیں۔

اسد مجید خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان صورتِ حال کو قریب سے دیکھ رہا ہے اور یقینی طور پر عالمی برادری خاص طور پر 'توسیعی ٹرائیکا' کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا تاکہ اس مقام تک پہنچا جا سکے جہاں انہیں تسلیم کرنے کی ضرورت ہو۔

طالبان کے کابل پر قبضے سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں پیچیدگیاں آنے سے متعلق اسد مجید خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ ایسے اتحادی ہیں جو ماضی میں افغانستان پر قریبی طور پر کام کر چکے ہیں اور مستقبل میں بھی کرتے رہیں گے۔

انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ پاکستان نے کابل کی طرف پیش قدمی میں طالبان کی مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پیش آنے والے واقعات پر گہری نظر ڈالنے سے ایسے تاثر کا غلط ہونا ظاہر ہوتا ہے۔

’طالبان کا رویہ بھی بہت محتاط نظر آرہا ہے‘

اس حوالے سے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) کے سابق پروفیسر ڈاکٹر ہمایوں خان کہتے ہیں کہ پاکستان ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے بہت احتیاط سے چل رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کا عالمی سطح کے مختلف رہنماؤں سے رابطہ ہوا ہے جس میں پاکستان نے محتاط ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جس انداز میں اقدامات کر رہا ہے اس میں پاکستان کو اندازہ ہے کہ ان کا کردار بہت اہم ہے اور ایسے میں طالبان کا رویہ بھی بہت محتاط نظر آ رہا ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے کام کریں گے۔ طالبان نے ٹی وی چینلز کی خواتین نیوز اینکرز کو کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کے ساتھ اسپتالوں میں جاکر خواتین ڈاکٹرز اور نرسوں سے جا کر ملاقات کی اور انہیں کام کرنے کا کہا ہے۔ اگر صورتِ حال ایسے ہی بہتر رہتی ہے تو پاکستان کے لیے افغان طالبان کو بطور حکومت تسلیم کرنا آسان ہوگا۔

ڈاکٹر ہمایوں نے کہا کہ اس وقت پہلی مرتبہ 100 فی صد افغانستان پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ اگر وہ انسانی حقوق کی پیروی کریں تو پاکستان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں کہ وہ انہیں تسلیم کر لیں۔ اس کے ساتھ ایران، روس، چین اور دیگر ممالک بھی اگر افغان حکومت کو تسلیم کر لیں گے تو پاکستان کے لیے بھی یہ فیصلہ کرنا آسان ہوگا۔

امریکہ اور یورپ کا طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں طالبان کو سوچنا ہوگا کہ وہ کس طرح ان ممالک کو خود کو تسلیم کرانے کے لیے کام کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان ایک لینڈ لاکڈ ملک ہے (یعنی اس کے چارو اطراف زمینی سرحدیں ہیں) اور اس کی سب سے زیادہ تجارت پاکستان کے راستہ ہوتی ہے۔ لہٰذا پاکستان کو اپنا مفاد دیکھنا ضروری ہو گا کہ تجارتی معاملات بہتر ہو سکیں۔ ماضی میں بھی طالبان کو صرف تین ممالک نے تسلیم کیا تھا اور ان میں سے پاکستان ایک تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG