رسائی کے لنکس

کیا واقعی امریکہ کا پاکستان سے رویہ مختلف ہو گیا ہے؟


فائل فوٹو

کیا بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان امریکہ تعلقات میں بامعنی پیش رفت کو افغانستان کی اینڈ گیم سے مشروط کرلیا ہے، جسے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سمیت پاکستان کی دیگر قیادت پسند نہیں کر رہی؟ کیا پاکستانی وزیر اعظم کی جانب سے امریکہ کو پاکستان کی سرزمین پر فوجی اڈے نہ دینے کے بیانئے پر اصرار واشنگٹن اور پاکستان کے تعلقات کو سرد مہری کا شکار کر رہا ہے؟

یہ اوراس سے ملتے جلتے کچھ سوال گزشتہ روز پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیئے گئے انٹرویو کے بعد واشنگٹن میں ماہرین سے پوچھے جا رہے ہیں، جس میں عمران خان نے کہا تھا کہ امریکہ پاکستان کو صرف اس لیے کارآمد سمجھتا ہے کہ وہ افغانستان سے انخلا کے بعد وہاں پیدا ہونے والی مشکل صورتِ حال سے نمٹنے میں امریکہ کی مدد کرے۔​

واشنگٹن ڈی سی کے تھنک ٹینک یو ایس انسٹی ٹیوٹ فار پیس سے منسلک تجزیہ کار اسفندیار میر نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات میں با معنی بہتری کو افغانستان میں جنگ کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے، جسے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر رہنما پسند نہیں کر رہے۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ابتری کی جانب گامزن صورت حال کے پیش نظر، جہاں طالبان عسکری طور پر مسلسل پیش قدمی کر رہے ہیں،اس بات کا امکان موجود ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو کم ترین سطح پر ہی رکھے جبکہ طالبان کی کابل کی جانب مسلسل پیش قدمی کے باعث یہ ممکن ہے کہ پاکستان کو اس کے لئے مورد الزام ٹہرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک نکتہ جہاں امریکہ اور پاکستان میں تعاون ہو سکتا ہے وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں ہیں، لیکن عمران خان اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

اسفند یار کے مطابق، امریکہ طالبان کو محدود کرنا چاہتا ہے، جبکہ پاکستان انہیں کامیاب ہوتا دیکھنا چاہے گا، ایسے میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں کسی بہتری یا گرمجوشی کے امکانات کم ہیں۔

پاکستانی وزیر اعظم کے اس بیان پر کہ امریکہ بھارت کو خطے میں سٹریٹجک پارٹنر سمجھتا ہے اس لیے اس کا پاکستان کے ساتھ رویہ مختلف ہو گیا ہے، اسفندیار میر کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان تعلقات میں کمی ایسے وقت پر آ رہی ہے جب امریکہ بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط کر رہا ہے، اور یہ بات پاکستان کو پسند نہیں۔دوسری طرف پاکستان چاہتا تھا کہ امریکہ پاکستان کے جیواکنامک وژن کا حصہ بنے۔ لیکن ایسا تعاون بھی مستقبل قریب میں ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

اسفند یار کہتے ہیں کہ امن مذاکرات سے واقف لوگوں کے لیے طالبان کا یہ مطالبہ نیا نہیں،کہ افغان صدر اشرف غنی استعفی دیں لیکن عمران خان کی جانب سے کھل کر ایسا کہنا یہ سخت گیر تاثر دیتا ہے کہ وہ خود اشرف غنی کو عہدہ چھوڑنے کا کہہ رہے ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی کے ایک اور تھنک ٹینک ولسن سینٹر کے جنوبی ایشیائی دفاعی امور کی ماہر ایلزبتھ تھیریلک نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے اس بات سے اتفاق کیا کہ طالبان اشرف غنی کے استعفی کا مطالبہ پہلے بھی کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے آیا اشرف غنی کا استعفی طالبان کی کابل کی جانب پیش قدمی روکنے کے لیے کافی ہوگا؟

انہوں نے کہا کہ اگر طالبان اس میں کامیاب ہوتے ہیں اور مذاکرات کی میز پر معاہدہ ہو جاتا ہے تو طالبان مستقبل میں بین الاقوامی طور پر سفارتی تنہائی سے بچ سکتے ہیں۔

کیا امریکہ کا پاکستان کے ساتھ رویہ مختلف ہو گیا ہے؟، ایلزبتھ تھیریلک نے کہا کہ پاکستان جیو اکنامک تعلقات کی جانب بڑھنا چاہتا ہے لیکن مستقبل میں بھی پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کا دار و مدار افغانستان کے حالات پر ہی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں پاکستان مستقبل میں وسطی ایشیا کے ساتھ رابطے بڑھانا چاہتا ہے، وہاں افغانستان کی غیر مستحکم صورت حال بھی اسے خطے میں اپنا جیو اکنامک کردار ادا کرنے سے روکتی رہے گی۔

پاکستانی تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار اور قائدِ اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے پروفیسر ظفر جسپال کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی کے تحت امریکہ کا جھکاؤ بھارت کی طرف بڑھتا گیا ہے۔ اور امریکہ پاکستان کو افغانستان کی نظر سے ہی دیکھتا رہا ہے۔

ظفر جسپال کا کہنا ہے کہ سرد جنگ کے دنوں میں پاکستان امریکہ سے تعاون بھی کرتا رہا ہے اور اب بھی بعض معاملات میں یہ تعاون جاری ہے لیکن پاکستان کی کچھ حدود ہیں اور شاید پاکستان اس حد تک خاص طور پر افغانستان میں امریکہ کے مقاصد کے حصول میں شاید آگے نہیں جارہا ہے جتنا امریکہ خواہش مند تھا۔

ان کے بقول افغانستان کی موجودہ صورتِ حال سے متعلق پاکستان کے وزیرِ اعظم نے حقیقت پسندانہ بات کی ہے۔ امریکہ کو بھی بلیم گیم کو چھوڑ کر افغانستان سے متعلق غیر حقیقی توقعات اور مطالبات کو چھوڑنا ہوگا۔

تجزیہ کار ظفر جسپال نے مزید کہا کہ امریکہ اور بھارت کے اسٹرٹیجک تعلقات کوئی نئی بات نہیں۔ اگرچہ پاکستان پہلے سفارتی طور امریکہ اور بھارت کے تعلقات کے بارے میں بات نہیں کرتا تھا لیکن اب عمران خان نے صاف صاف امریکہ اور بھارت کی قربت کا ذکر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب امریکہ کو پاکستان کی ضرورت تھی تو دونوں ملک اسٹرٹیجک شراکت دار تھے۔ افغانستان میں سویت یونین کی مداخلت کے وقت پاکستان کو بھی امریکہ کی ضرورت تھی اور اسی وجہ سے واشنگٹن اسلام اور دہلی کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن رکھتا۔ لیکن اب صورتِ حال تبدیل ہو گئی ہے۔ امریکہ بھارت کو اسٹرٹیجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہہ چکا ہے کہ جنوبی ایشیا اور بحرِ ہند میں بھارت کا ایک اہم کردار ہے۔

افغانستان امن عمل کی راہ میں حائل ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھیرایا جاسکتا ہے؟

بین الاقوامی امور کی تجزیہ کار ہما بقائی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ہمیشہ سے پیچیدہ رہے ہیں اور اب واشنگٹن ان تعلقات کو افغانستان کے پس منظر میں دیکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سے پہلے افغانستان میں معاملات کو سلجھانے کے لیے مدد مانگی گئی لیکن اب اسلام آباد کے خدشات ہیں کہ پاکستان کو امن عمل کی راہ میں درپیش ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھیرایا جائے گا۔

ہما بقائی کے بقول جو بائیڈن انتظامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئی سمت پر استوار کرنے کا خواہش مند تھا لیکن اب تک اس حوالے سے کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس لیے شاید عمران خان کا یہ کہنا تھا کہ امریکہ بھارت کے ساتھ اسٹرٹیجک تعلقات ہیں اور پاکستان کو بظاہر اسی لیے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

ان کے خیال میں واشنگٹن کی طرف سے بظاہر سرد مہری کی وجہ سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔

اگرچہ امریکہ کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ پاکستان طالبان کو اپنی عسکری کارروائیاں روکنے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرسکتا ہے لیکن ہما بقائی کے بقول شاید یہ اتنا آسان نہیں ہے کیوں کہ پاکستان کا طالبان پر ماضی جیسا کنٹرول نہیں رہا۔

عمران خان کا رائٹرز کو انٹرویو: 'امریکہ کا پاکستان کے ساتھ رویہ مختلف ہو گیا ہے'

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق بدھ کے روز پاکستان کے وزیراعظم عمران نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان افغانستان میں کسی فریق کی حمایت نہیں کر رہا۔ ان کے بقول ،جب طالبان رہنماؤں نے پاکستان کا دورہ کیا تو انہوں نے طالبان کو امن معاہدے پر پہنچنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان رہنماؤں نے انہیں بتایا ہے کہ جب تک افغان صدر اشرف غنی حکومت میں ہیں وہ افغان حکومت سے مذاکرات نہیں کریں گے۔

انہون نے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ امریکہ پاکستان کو صرف اس لیے کارآمد سمجھتا ہے کہ وہ افغانستان سے انخلا کے بعد وہاں پیدا ہونے والی مشکل صورتِ حال سے نمٹنے میں امریکہ کی مدد کرے۔ امریکہ کا پاکستان کے ساتھ رویہ مختلف ہو گیا ہے۔ اور یہ کہ پاکستان نے یہ واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد پاکستان کے اندر کوئی امریکی فوجی اڈہ نہیں چاہتا۔

واضح رہے کہ امریکہ کا اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان پر طالبان کی حمایت کا الزام لگتا رہا ہے۔ تاہم پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

کابل اور کئی مغربی حکومتوں کا کہنا ہے کہ طالبان کے لیے پاکستان کی حمایت نے اس گروپ کو جنگ کو طول دینے میں مدد دی ہے۔​

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG