رسائی کے لنکس

logo-print

اقتصادیات کا نوبیل انعام تین امریکی ماہرین نے جیت لیا


رائل سوئیڈش اکیڈمی آف سائنسز کے سیکریٹری جنرل گوران کے ہینسن اقتصادیات کے شعبے کے نوبیل انعام کے فاتحین کا اعلان کر رہے ہیں۔

غربت کے خاتمے پر تحقیق کرنے والے تین امریکی ماہرین نے 2019 کا اقتصادیات کے شعبے کا نوبیل انعام جیت لیا ہے۔

انعام کا اعلان پیر کو سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں قائم 'رائل سوئیڈش اکیڈمی آف سائنسز' نے ایک پریس کانفرنس میں کیا ۔

اکیڈمی کے مطابق امریکہ میں مقیم تین ماہرینِ معاشیات - ابھیجیت بینر جی، ایستھر ڈفلو اور مائیکل کریمر کو مشترکہ طور پر سالِ رواں کے نوبیل انعام برائے اقتصادیات کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

ابھیجیت بینرجی بھارتی نژاد جب کہ ایستھر ڈفلو فرانسیسی نژاد امریکی ہیں اور دونوں امریکہ کے معروف 'میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی' سے منسلک ہیں۔ ان کے تیسرے ساتھی مائیکل کریمر کا تعلق ہارورڈ یونیورسٹی سے ہے۔

معاشیات کے شعبے میں نوبیل انعام گزشتہ 50 برسوں سے دیا جا رہا ہے اور نصف صدی پر محیط اس کی تاریخ میں ڈفلو دوسری خاتون ہیں جنہیں یہ اعزاز ملا ہے۔ چھیالیس سالہ ڈفلو یہ اعزاز پانے والی کم عمر ترین شخصیت بھی ہیں۔

رائل سوئیڈش اکیڈمی کے اعلامیے کے مطابق تینوں ماہرین کے کام سے دنیا کو یہ سمجھنے میں مدد ملی ہے کہ کس طرح تعلیم، صحت اور ایسے ہی دیگر شعبوں میں کام کرکے معاشرے سے غربت ختم کی جاسکتی ہے۔

اعلامیے کے مطابق ان تینوں ماہرین کی تحقیقات اور عملی تجربات کے نتیجے میں نہ صرف بھارت میں اسکول جانے والے لاکھوں بچوں کو تعلیم کے ذریعے غربت سے بچانے کی کوشش کی گئی بلکہ دنیا بھر کی حکومتوں کو امراض سے بچاؤ کے لیے زیادہ وسائل مختص کرنے پر آمادہ کرنے میں بھی مدد ملی۔

پیر کو اسٹاک ہوم میں ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران بذریعہ ٹیلی فون گفتگو کرتے ہوئے ایستھر ڈفلو نے کہا کہ غریبوں کی مدد کے لیے کوشاں بیشتر افراد بھی غربت کی جڑ تک نہیں پہنچ پاتے ۔ ان کے بقول ان کے کام کا ہدف یہ تھا کہ غربت کے خلاف کوششوں کی بنیاد سائنسی شواہد پر رکھی جائے۔


نوبیل انعام پانے والے تینوں ماہرین 'ٹیچنگ ایٹ دی رائٹ لیول' نامی پروگرام سے منسلک ہیں جس کے تحت بھارت اور افریقہ کے مختلف ملکوں میں پرائمری اسکول کی سطح کے چھ کروڑ طلبہ کی حساب (میتھ میٹکس) اور مطالعے کی استعداد بڑھانے کا کام کیا گیا۔

ان ماہرین کا استدلال ہے کہ ان دونوں صلاحیتوں میں اضافے سے بہتر معاشی مواقع کے حصول کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔

اقتصادیات کے شعبے کے انعام کے اعلان کے ساتھ ہی رواں سال کے نوبیل انعامات کے اعلانات کا سلسلہ مکمل ہوگیا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے طب، طبعیات، کیمیا ، ادب اور امن کے شعبوں کے نوبیل انعامات کا اعلان کیا گیا تھا۔

ہر سال اقتصادیات کے شعبے میں دیا جانے والا 'نوبیل پرائز' ان ابتدائی انعامات میں شامل نہیں تھا جن کا آغاز ڈائنامائٹ کے موجد اور معروف سائنس دان اور صنعت کار الفریڈ نوبیل نے 1895ء میں کیا تھا۔

اقتصادیات کے شعبے میں اس انعام کا آغاز سوئیڈن کے مرکزی بینک نے الفریڈ نوبیل کی یاد میں 1969ء میں کیا تھا۔ بینک کے نام کی مناسبت سے اس پرائز کو 'سیوریجز رکس بینک پرائز ان اکنامک سائنسز' کہا جاتا ہے۔

دیگر نوبیل انعامات کی طرح اس ایوارڈ کے ہمراہ بھی جیتنے والوں کو 90 لاکھ سوئیڈش کراؤن کی رقم (لگ بھگ نو لاکھ 15 ہزار امریکی ڈالر کے مساوی) دی جاتی ہے۔ رواں سال یہ رقم تینوں ماہرینِ اقتصادیات میں مساوی تقسیم ہوگی۔

امن کے علاوہ دیگر تمام پانچ شعبوں میں دیے جانے والے نوبیل ایوارڈز کی تقسیم کی تقریب حسبِ روایت الفریڈ نوبیل کی برسی کے دن 10 دسمبر کو اسٹاک ہوم میں ہوگی۔ امن کا نوبیل ایوارڈ - جو اس سال ایتھوپیا کے وزیرِ اعظم ابی احمد نے جیتا ہے - ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ہونے والی ایک علیحدہ تقریب میں دیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG