رسائی کے لنکس

امریکی شہریوں کو اتنے نوبیل انعام کیوں ملتے ہیں؟


نوبیل پرائز حاصل کرنے والے تین امریکی سائنس دان (فائل فوٹو)

اس سال 13 نوبیل انعام حاصل کرنے والے 8 افراد ایسے ہیں جو امریکی شہری ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی یونیورسٹیوں کا تعلیمی میدان میں غلبہ اور دنیا بھر کے عظیم دماغوں کا ان تعلیمی اداروں میں پڑھنا اس کی وجوہات میں سے ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، امریکی یونیورسٹیاں مسلسل عالمی درجہ بندی میں پہلی 100 یونیورسٹیوں میں غالب رہتی ہیں۔ ان یونیورسٹیوں میں نجی طور پر چلائے جانے والے ’آئیوی لیگ‘ ادارے بھی شامل ہیں۔ ان یونیورسٹیوں کے پاس اربوں ڈالر کا سرمایہ موجود ہے جب کہ سرکاری طور پر بھی ایسی یونیورسٹیاں موجود ہیں جہاں پڑھنا اعزاز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

نوبیل انعامات کے آغاز سے اب تک امریکی شہری تقریباً 400 بار یہ انعام حاصل کر چکے ہیں۔ اس کے بعد برطانیہ اور جرمنی کا نام آتا ہے جن کے شہریوں نے بالترتیب 138 اور 111 بار نوبیل انعام جیتا۔ نوبیل انعامات جیتنے والوں کا تعلق کئی دوسرے ممالک سے بھی ہے۔

آرمینیا نژاد امریکی شہری آرڈم پاٹاپوٹیان کو، جن کی پرورش لبنان میں ہوئی تھی، اس برس ادویات کے شعبے میں نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ انہوں نے حواس لمسہ، یعنی چھونے کو محسوس کرنے والے پٹھوں پر کام کیا تھا۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس امریکی کی جانب سے انہیں فراہم کئے گئے مواقع پر شکر گزار ہیں۔

انہوں نے اپنی کامیابی کی وجہ سرکاری طور پر چلنے والی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا (جہاں انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کی) اور سکرپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کو قرار دیا جہاں وہ پچھلے بیس برس سے مقیم ہیں۔

اسی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈیوڈ جولیس نے بھی اس برس نوبیل انعام حاصل کیا ہے۔ اے ایف پی کے بقول اب تک یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے 70 افراد نوبیل کا انعام حاصل کر چکے ہیں۔ یہ تعداد ملک فرانس کے 71 نوبیل انعاموں سے صرف ایک کم ہے۔

ایسے ہی 1950 کی دہائی میں جاپان چھوڑ کر امریکہ میں مقیم ہونے والے سائکورو منابے نے اس برس فزکس کا نوبیل انعام حاصل کیا ہے۔ انہوں نے امریکہ کی پرنسٹن یونی ورسٹی میں موسمیاتی ماڈلوں پر کام کیا ہے۔ انہوں نے رپورٹرز کو بتایا کہ امریکہ میں کام کرتے ہوئے جہاں ان کا تجسس انہیں لے جانا چاہتا تھا، وہ وہاں تک جانے میں آزاد تھے۔

کیمسٹری میں نوبیل انعام حاصل کرنے والے ڈیوڈ میک ملن 1990 کی دہائی میں سکاٹ لینڈ سے امریکہ چلے آئے اور پرنسٹن یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ اسی یونی ورسٹی میں امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی فلپائنی نژاد امریکی شہری ماریا ریسا نے 1986 میں اپنا بیچلر مکمل کیا تھا۔

اس برس معیشت کا نوبیل انعام کینیڈین نژاد امریکی ڈیوڈ کارڈ اور اسرائیلی نژاد امریکی جوشوا انگریسٹ نے حاصل کیا۔ ان دونوں کا تعلق پرنسٹن یونی ورسٹی سے ہے جب کہ ان کے ساتھ ہی معیشت کا نوبیل انعام حاصل کرنے والے ڈچ نژاد امریکی گوائڈو ایمبینز کا تعلق امریکہ کی سٹینفرڈ یونیورسٹی سے ہے۔

1975 میں ادویات کے شعبے میں نوبیل انعام حاصل کرنے والے ڈیوڈ بالٹی مور نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی تحقیق کے لیے امریکہ میں فنڈنگ کی سہولت موجود ہے جس کی وجہ سے سائنسی نظریات اور دوسرے شعبوں کو بہتر طور پر سمجھنے کی آزادی موجود ہے، یہی بات امریکی شہریوں کی جانب سے اس قدر نوبیل انعام جیتنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کی ایک اور بڑی وجہ امریکی یونیورسٹیوں کے ریسرچ اداروں کی مضبوطی ہے، جس کی شروعات کئی صدیاں پہلے ہارورڈ یونیورسٹی سے ہوئی تھی۔

اے ایف پی کے مطابق امریکی تعلیمی اداروں کی جانب سے بنیادی تحقیق پر اصرار کی بنیادیں دوسری جنگ عظیم کے بعد کے حالات میں پنہاں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 1950 میں ملک میں نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کا قیام بھی اہم ہے جو ملک بھر کی یونیورسٹیوں کو دئے جانے والے سرمایے کا منتظم ادارہ ہے۔

ان کے علاوہ مخیر حضرات کی جانب سے تعلیمی اداروں کو چندہ اور نجی سرمایہ کاری بھی ان تعلیمی اداروں کو دئے جانے والی فنڈنگ میں شامل ہے۔

امریکہ کی کیمیکل سوسائٹی کے صدر ایچ این چینگ کے مطابق جہاں امریکہ دنیا بھر میں تعلیمی اداروں کو تحقیق کے لیے سرمایہ کاری میں پہلے درجے پر ہے وہیں چین بہت تیزی سے امریکہ کی جگہ لے رہا ہے۔ امریکہ میں جہاں سالانہ 569 ارب ڈالر اس مقصد کے لیے تعلیمی اداروں کو دئے جاتے ہیں وہیں چین میں 2017 کے پرچیزنگ پاور پیرٹی انڈیکس کے مطابق 469 ارب ڈالر یونی ورسٹیوں کو فراہم کئے گئے۔

اسی لیے دنیا بھر کے سائنسدان امریکہ کھنچے چلے آتے ہیں۔ چینگ نے اے ایف پی کو بتایا کہ بطور سائنسدان آپ کو امریکہ میں نہ صرف تعلیمی اداروں، بلکہ صنعتوں، سرکاری لیبارٹریوں اور دوسری جگہوں پر نوکری کے زیادہ مواقع حاصل ہوتے ہیں۔

امریکی یونی ورسٹی ایم آئی ٹی میں فزکس کے پروفیسر امریٹس مارک کاسٹنر نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ امریکہ یونیورسٹیاں نوجوان محققین کو اپنی لیبارٹریز میں بہتر مواقع سے نوازتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہارورڈ سے نیورو بائیولوجی میں تعلیم حاصل کرنے والی کیتھرین ڈیولاک، جنہیں 2021 میں اپنے غیر معمولی کام پر نوبیل کا انعام ملا تھا، لیکن بعد میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد امریکہ میں رہ کر کام کرنے کے بجائے اپنے ملک فرانس واپس جانے پر ترجیح دی۔

لیکن مائیکل کاسٹنر کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں مبینہ قوم پرستی اور غیر ملکیوں سے نفرت کے نظریات سے پریشان ہیں، جس کی وجہ سے پہلے سے کم غیر ملکی طلبا امریکہ کا انتخاب کر رہے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق اس میں چینی طلبا سرفہرست ہیں جو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی طلبا کے بارے میں جاسوسی کے خدشات ظاہر کرنے کے بعد خاص طور پر مرکز نگاہ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG