رسائی کے لنکس

logo-print

کئی بڑی سیاسی شخصیات کے کاغذات نامزدگی مسترد


عمران خان (فائل)

آئندہ عام انتخابات کے لیے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل منگل کو مکمل ہو گیا جس میں جہاں مختلف بڑے سیاسی رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی منظور ہو گئے تو وہیں بعض کے کچھ حلقوں سے کاغذات مسترد بھی ہوئے۔

اسلام آباد سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 53 سے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، سابق گورنر خیبر پختونخواہ مہتاب عباسی اور عائشہ گلالئی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے۔

تاہم، عمران خان اور شاہد خاقان عباسی کے دیگر حلقوں سے کاغذات منظور ہونے کا بتایا گیا ہے۔

ان امیدواروں کے کاغذات کے استرداد کی وجہ تکنیکی نوعیت کی بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کے بیان حلفی نامکمل تھے۔

سابق فوجی صدر اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ پرویز مشرف جن کے کاغذات چترال اور کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقوں سے جمع کروائے گئے تھے، مسترد کر دیے گئے۔

پرویز مشرف بیرون ملک ہیں اور سپریم کورٹ نے انھیں انتخاب میں حصہ لینے کی یہ کہہ مشروط اجازت دی تھی کہ انھیں عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔ تاہم، سابق صدر وطن واپس نہیں آئے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فاروق ستار اور پاک سرزمین پارٹی کی فوزیہ قصوری کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیے گئے۔

کاغذات نامزدگی کے استرداد کے خلاف امیدواران 22 جون تک اپیلٹ ٹربیونلز سے رجوع کر سکتے ہیں جو 27 تاریخ تک انھیں نمٹائیں گے جس کے ایک روز بعد الیکشن کمیشن امیدواروں کی فہرست جاری کرے گا۔

دوسری طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ان کے والد اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری، پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے ہیں۔

کاغذات کی جانچ پڑتال کے لیے اس عمل میں الیکشن کمیشن نے مرکزی بینک، ایف بی آر، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں سے معلومات کا تبادلہ کیا تھا اور اس عمل کو ماضی کی نسبت بہتر تصور کیا گیا۔

الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری اور جمہوریت میں شفافیت کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم 'نیشنل ڈیموکریٹک فاؤنڈیشن' کے سربراہ کنور دلشاد نے منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ گو کہ اس مرتبہ کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل ماضی کی نسبت مفصل اور بہتر تھا، لیکن اس کے باوجود ایسے بہت سے امیدواروں کے کاغذات منظور بھی ہو گئے جو مختلف مقدمات کے ساتھ مختلف نوعیت کے متنازع امور میں ملوث رہے ہیں۔

بقول اُن کے، "اس میں کافی شخصیات کو ریلیف دیا، آصف زرداری ہیں ان کی اربوں کی جائیداد باہر موجود ہے۔ لیکن اس کے باوجود انھوں نے جو کاغذات میں ذکر کیا ریٹرننگ افسران نے اس پر اعتراض نہیں کیا اور ان کے جو مخالفین تھے انھوں نے بھی اعتراض نہیں کیے، اسی طرح شہباز شریف، مریم نواز کے بھی منظور ہو گئے۔۔۔لیکن ایک بات ہے کہ اس بار بہت اچھے طریقے سے چھان بین کی گئی۔"

قومی و صوبائی اسمبلیوں کے لیے عام انتخابات آئندہ ماہ کی 25 تاریخ کو ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG