رسائی کے لنکس

logo-print

امیدواروں کے لیے اثاثوں سے متعلق بیانِ حلفی لازمی قرار


عدالت نے قرار دیا ہے کہ بیانِ حلفی میں اثاثوں سے متعلق تمام تفصیلات درج کی جائیں اور اس کی تصدیق اوتھ کمشنر سے کرائی جائے۔ جو امیدوار کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا چکے ہیں انہیں بھی بیانِ حلفی جمع کرانا ہوگا۔

سپریم کورٹ نے آئندہ عام انتخابات لڑنے کے خواہش مند امیدواروں پر اپنے اثاثوں اور دہری شہریت سے متعلق بیانِ حلفی جمع کرانے کو لازمی قرار دے دیا ہے۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کو بیانِ حلفی کا متن تیار کرنے کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر بیانِ حلفی میں غلطی یا کوتاہی کی گئی تو توہینِ عدالت کی کاروائی ہوسکتی ہے۔

بدھ کو سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پنجابی زبان میں کہا "آپے کھادا، آپے پیتا، آپے واہ واہ کیتا، ایسے نہیں چلے گا۔" (خود ہی کھایا، خود ہی پیا، خود ہی واہ واہ کی)۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے یہ ریمارکس سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے دیے جس نے بدھ کو کاغذاتِ نامزدگی فارم کی سابق شقوں کی بحالی کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی۔

سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے وکیل سے کہا کہ کیا آپ کی اپیلیں قابلِ سماعت ہیں؟ سنگل جج کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی جاتی ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی لوگوں کے اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرنے میں شرما کیوں رہے ہیں؟ بچوں کے اور اپنے غیر ملکی اثاثے، بینک اکاؤنٹ و دیگر تفصیلات بتانے میں کیا حرج ہے؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جن لوگوں نے چالاکیاں کرکے قانون بنایا، ہمیں سب پتا ہے۔ چالاکیاں کرکے قانون بنانے والے عدالت میں موجود ہیں۔ خود کو کیوں چھپانا چاہتے ہیں؟ عوام سے آخر کیوں معلومات چھپائی جارہی ہیں؟ عوام کو امیدوار کی امانت داری اور دیانت داری کا علم ہونا چاہیے۔ امیدوار کی تمام تفصیلات کا علم ہونے میں کیا نقصان ہے؟ ہمیں بتائیں ایاز صادق کیا تفصیلات چھپانا چاہتے ہیں؟

بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں اور قانون میں دو مرتبہ تبدیلی ہوچکی ہے۔ ہم آپ کی درخواست خارج کر دیتے ہیں۔ وفاق کہاں ہے؟ سات ماہ سے حکومت نے معاملہ لٹکائے رکھا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ تعلیم اور اثاثوں کی تفصیلات چھپائی جائیں۔ کیا یہ آئینی معاملہ ہے؟ اسپیکر اسمبلی کا کاغذاتِ نامزدگی کی تبدیلی سے کوئی مفاد متاثر نہیں ہورہا ہے۔ تعلیم، اندرون اور بیرون ملک اثاثے، آمدن اور اس طرح کی دیگر معاملات چھپا کر شہریوں کو معلومات سے کیوں محروم رکھا جاتا ہے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی الیکشن کمیشن کے حکم کو کیسے چیلنج کرسکتے ہیں؟ الیکشن کمیشن کے اختیار کو کیوں کم کرانا چاہتے ہیں؟ الیکشن کمیشن نے شفاف اور آزاد انتخابات کرانے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کون سا مال ہے جو چھپا رکھا ہے؟ وہ مال اچھا ہے۔ کیا پتا زیرِ کفالت افراد کی جائیدادیں بے نامی ہوں۔ واضح کردوں سپریم کورٹ الیکشن ملتوی نہیں کرائے گی۔ ہم بیانِ حلفی بنوانے کے لیے الیکشن کمیشن کو کہیں گے۔ الیکشن کمیشن بیانِ حلفی کا فارم بنا کر اخبار میں چھپوا دے۔ "آپے کھادا، آپے پیتا، آپے واہ واہ کیتا۔" ایسے نہیں چلے گا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہم نے قوم کو بچانا ہے کسی شخصیت کو نہیں۔ ہم الگ سے ایک بینچ تشکیل دیں گے۔ عمل درآمد بینچ جائزہ لے گا کہ الیکشن کیسے کرانے ہیں۔ بڑے بڑے جلسوں میں کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ بینر کتنے سائز کا ہوگا اس معاملے کو ہم دیکھیں گے۔ ہمیں عام انتخابات میں بالکل صاف ستھرے لوگ چاہئیں۔

سپریم کورٹ نے انتخابات میں حصہ لینے والوں امیدواروں کے لیے بیانِ حلفی لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام امیدوار تین روز میں بیانِ حلفی جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کو بیانِ حلفی اور اس کا متن تیار کرنے کا حکم بھی جاری کردیا ہے۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ بیانِ حلفی میں اثاثوں سے متعلق تمام تفصیلات درج کی جائیں اور اس کی تصدیق اوتھ کمشنر سے کرائی جائے۔ جو امیدوار کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا چکے ہیں انہیں بھی بیانِ حلفی جمع کرانا ہوگا۔ اگر بیانِ حلفی میں غلطی یا کوتاہی کی گئی تو توہینِ عدالت کی کاروائی ہوسکتی ہے۔

یکم جون کو لاہور ہائی کورٹ نے عام انتخابات 2018ء کے لیے پارلیمنٹ کی جانب سے نامزدگی فارم میں کی گئی ترامیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے آئین کی شق 62 اور 63 کے مطابق ترتیب دینے کا حکم دیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا جس میں نامزدگی فارم سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر رہنمائی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اسپیکر قومی اسمبلی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما ایاز صادق نے بھی انتخابات کے لیے نامزدگی فارم سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے اپنی اپیل میں کہا تھا کہ ایوانِ زیریں کے کسٹوڈین ہونے کے ناتے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایوان کی جانب سے منظور کیے گئے قانون کے خلاف آنے والے فیصلے پر اپیل دائر کریں۔

تین جون کو سپریم کورٹ نے نامزدگی فارم میں کی گئی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کردیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG