رسائی کے لنکس

logo-print

تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ نور ولی محسود عالمی دہشت گرد قرار


(فائل فوٹو)

اقوامِ متحد ہ کی سلامتی کونسل نے کالعدم شدت پسند گروپ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ نور ولی محسود کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

جمعرات کے روز جاری ہونے والے بیان کے مطابق سلامتی کونسل نے مفتی نور ولی محسود کا نام شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) اور القاعدہ کی تعزیراتی فہرست میں شامل کیا ہے۔

فہرست میں نام شامل کیے جانے کے بعد نور ولی محسود کے اثاثے منجمد کر کے ان پر سفری پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

بیان کے مطابق سلامتی کونسل نے مفتی نور ولی محسود کو قرارداد نمبر 2368 (2017) کے پیراگراف دو اور چار کے تحت القاعدہ یا اس سے وابستہ تنظیموں کی معاونت پر اس فہرست میں شامل کیا ہے۔

پاکستان نے مفتی نور ولی محسود کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جمعے کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ مفتی نور ولی محسود پاکستان میں کئی دہشت گرد حملوں کے ذمہ دار تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ملک کے اندر تحریک طالبان پاکستان کو فوجی آپریشن کے ذریعے ختم کر دیا ہے۔ لیکن ٹی ٹی پی اب بھی سرحد پار ایک تیسرے ملک کی مدد سے پاکستان کے خلاف متحرک ہے۔

مفتی نور ولی محسود پر القاعدہ اور داعش کے ساتھ مل کر دہشت گردی کی کارراوئیوں کے لیے مالی تعاون، منصوبہ بندی اور سہولت کاری کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

سلامتی کونسل کی طرف سے جاری کردہ بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ نور ولی محسود کو ٹی ٹی پی کے رہنما ملا فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد جون 2018 میں کالعدم تنطیم تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

اقوامِ متحدہ ٹی ٹی پی کو القاعدہ سے روابط رکھنے کی بنیاد پر جولائی 2011 میں دہشت گرد تنظیم قرار دے چکی ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ پہلے ہی ستمبر 2019 میں ولی محسود کو دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ کے جنوبی ایشیا اور وسطیٰ ایشیا کے بیورو نے ایک ٹوئٹ میں اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔

بیورو کے مطابق ٹی ٹی پی پاکستان میں کئی مہلک دہشت گرد حملوں کی ذمہ دار ہے۔

خیال رہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی ایک عرصے سے پاکستان کے سابق قبائلی علاقوں میں سرگرم رہی ہے اور پاکستان بھر میں ہونے والے متعدد دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے۔

پشاور میں امن تحریک کے رہنما اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن تیمور کمال نے اقوامِ متحدہ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے تیمور کمال نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ان میں ملوث افراد کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے۔

تیمور کمال کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے اس قسم کے فیصلوں پر عمل درآمد نظر نہیں آتا۔

اُنہوں نے یاد دلایا کہ تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کو نہ صرف معافی دی گئی تھی بلکہ اُنہیں پر اسرار طور پر سرکاری تحویل سے فرار ہونے کا موقع بھی دیا گیا۔

حزبِ اختلاف میں شامل مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام (ف) کے صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا عطا الحق درویش نے کہا کہ امریکہ دہشت گردی اور شدت پسندی کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔

اُن کے بقول جو افراد اور تنظیمیں امریکہ کے مفادات کے لیے لڑتی ہیں، اُنہیں وہ پرامن قرار دیتا ہے۔ لیکن جو اس کے ایجنڈے کی مخالفت کرتی ہیں انہیں دہشت گرد قراد دے دیا جاتا ہے۔

مفتی نور ولی محسود کون ہیں؟

پشاور میں وائس آف امریکہ کے نمائندے شمیم شاہد کے مطابق مفتی نور ولی محسود کا تعلق جنوبی وزیرستان کے 'سرہ روغہ' علاقے سے ہے۔ ان کی عمر لگ بھگ 45 سال ہے۔ اُنہوں نے ابتدائی تعلیم آبائی علاقے میں حاصل کی ہے جب کہ بعد میں کراچی کے جامع بنوریہ اور فیصل آباد کے ایک دینی مدرسے میں بھی زیرِ تعلیم رہے۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد افغان طالبان کے ساتھ منسلک ہو گئے تھے۔

پاکستان میں جب تحریک طالبان منظم ہونا شروع ہوئی تو وہ اس کے ساتھ وابستہ ہو گئے۔ اس دوران وہ اپنے آبائی علاقے سرہ روغہ سے تیارزہ منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے مدرسہ قائم کر لیا۔ وہ باقاعدہ طور پر 2007 میں اُس وقت تحریک طالبان پاکستان میں شامل ہو گئے جب بیت اللہ محسود اس کے پہلے سربراہ بن گئے۔

2007 ہی میں اُنہوں نے ایک کتاب لکھی جس میں وزیرستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاپسندی، عسکریت پسندی اور فوجی آپریشن کے علاوہ طالبان شدت پسندوں کی جانب سے بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم میں ملوث ہونے کا بھی تذکرہ کیا۔

بیت اللہ محسود کے دور میں وہ تحریک طالبان پاکستان کے قاضی القضاۃ یعنی چیف جسٹس رہے ہیں تاہم حکیم اللہ محسود اور ملا فضل اللہ کے دور میں عقیدے کی بنیاد پر اُنہیں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

مفتی نور ولی راسخ سنی تھے جب کہ حکیم اللہ محسود اور ملا فضل اللہ محسود وہابی عقیدے پر یقین رکھتے تھے۔

27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو قتل کرنے کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس حملے کی تمام تر منصوبہ بندی بھی مفتی نور ولی نے کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG