رسائی کے لنکس

logo-print

افغان حکومت کا 600 طالبان قیدی رہا کرنے سے انکار، عبداللہ عبداللہ کو دورۂ پاکستان کی دعوت


فائل فوٹو

افغانستان کی حکومت نے طالبان کی جانب سے فراہم کردہ 5000 قیدیوں کی فہرست میں سے 600 کو رہا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

افغان حکام نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے دی جانے والی فہرست میں شامل ان قیدیوں کو رہا نہیں کیا جائے گا جنہیں ان کی مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان صادق صدیقی نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان رواں برس فروری میں طے پانے والے معاہدے میں طالبان کے پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کا معاہدہ ہوا تھا جس میں یہ بات شامل نہیں تھی کہ افغان حکومت انہی قیدیوں کو رہا کرنے کی پابند ہوگی جن کے نام طالبان دیں گے۔

ترجمان نے بتایا کہ معاہدے کے تحت اب تک حکومت نے 5000 طالبان قیدیوں میں سے 4015 کو رہا کر دیا ہے۔

وائس آف امریکہ کے اس سوال پر کہ قیدیوں کو رہا نہ کیے جانے کے بین الافغان مذاکرات پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس صورتِ حال کے ذمہ دار طالبان ہیں۔

اس سے قبل افغان سیکیورٹی کونسل کے ترجمان جاوید فیصل نے وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ افغان حکومت لگ بھگ 600 طالبان قیدی رہا نہیں کرے گی۔

جاوید فیصل کا کہنا تھا کہ ان قیدیوں کے خلاف دیگر جرائم جیسے چوری، قتل، کرپشن اور اسمگلنگ کے مقدمات درج ہیں۔

دوسری جانب دوحہ میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ طالبان نے اپنی حراست میں موجود 1000 افغان سیکیورٹی اہلکاروں میں سے 737 کو رہا کردیا ہے۔

معاہدے کے تحت قیدیوں کے تبادلے کے بعد فریقین کے درمیان بین الافغان مذاکرات ہونا ہیں۔ تاہم قیدیوں کی رہائی میں تاخیر بین الافغان مذاکرات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ کار خلیل صافی کا کہنا ہے کہ طالبان کی تیکنیکی ٹیم افغان حکومت کے ساتھ کابل میں مذاکرات کر رہی ہے۔

ان کے بقول افغان حکومت کی طرف سے طالبان کو مذکورہ 600 قیدیوں کے دیگر جرائم میں ملوث ہونے سے متعلق شواہد فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔

عبداللہ عبداللہ کو دورۂ پاکستان کی دعوت

دریں اثنا پاکستان کی حکومت نے اسلام آباد اور کابل کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے افغانستان کی قومی مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبد اللہ عبد اللہ کو با ضابطہ طور پر پاکستان کے دورے کی دعوت دی ہے۔

پاکستان کی حکومت کا یہ تازہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان میں حکومت اور طالبان میں مذاکرات شروع ہونے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق عبد اللہ عبد اللہ کے پاکستان کے دورے کے لیے تاریخوں کا اعلان دونوں ممالک کے درمیان باہمی رضا مندی سے کیا جائے گا۔

وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کے افغانستان کے لیے تعینات کردہ خصوصی مشیر محمد صادق نے افغان رہنما کو دورۂ پاکستان کی دعوت دینے کا اعلان ایک ٹوئٹ میں کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔

کابل میں تعینات پاکستان کے سفیر نصر اللہ خان سے ملاقات کے بعد عبد اللہ عبد اللہ کا ایک ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ وہ پاکستان کی طرف سے دورے کی دعوت پر شکر گزار ہیں۔

عبداللہ عبداللہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے قائم کردہ افغان حکومت اعلیٰ کونسل کے سربراہ ہیں۔

انہیں اس اعلیٰ کونسل کا سربراہ صدر اشرف گنی سے شراکت اقتدار کے معاہدے کے بعد بنایا گیا تھا۔ افغانستان کے صدارتی انتخابات کے بعد اس کے نتائج کے حوالے سے اشرف غنی اور عبد اللہ عبد اللہ کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے تھے اور فروری میں دونوں نے صدارت کا الگ الگ حلف اٹھاتے ہوئے اپنی اپنی متوازی حکومتوں کا اعلان کر دیا تھا۔

امریکہ اور دیگر ممالک کے دباؤ کے بعد اشرف غنی اور عبد اللہ عبد اللہ میں شراکت اقتدار کا معاہدہ ہوا تھا۔

معاہدے کے مطابق عبد اللہ عبد اللہ کو صدر کے بعد ملک میں دوسرا اہم ترین عہدہ دیا گیا جب کہ اشرف غنی بدستور صدر کے عہدے پر موجود ہیں۔

امریکہ افغانستان میں میں سیاسی بحران کا جلد از جلد خاتمے کا خواہاں ہے تاکہ طالبان سے کیے گئے امن معاہدے پر تیزی سے عمل ہو سکے۔

رواں برس فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے میں امریکہ کے زیر قیادت اتحادی افواج کے انخلا کے ٹائم ٹیبل اور طالبان کی جانب سے امن و امان قائم رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

اسی معاہدے میں پانچ ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی اور طالبان کی طرف سے ایک ہزار افغان سرکاری اہل کاروں کی رہائی بھی شامل تھی۔

گزشتہ ہفتے افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے بھی افغانستان کے حوالے سے ازبکستان، پاکستان اور قطر کا دورہ کیا تھا۔

قطر میں انہوں نے طالبان رہنماؤں سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا تھا۔ پہلی مرتبہ ان کے ہمراہ امریکہ کی بین الاقوامی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن کے سربراہ ایڈم بولر بھی تھے۔

قبل ازیں امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو اور طالبان کے اعلیٰ مذاکرات کار ملا عبد الغنی برادر میں بھی رابطہ ہوا تھا۔ ٹیلی فون پر دونوں رہنماؤں میں ہونے والی گفتگو میں افغان امن عمل سمیت قیدیوں کی رہائی پر مشاورت کی گئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG