رسائی کے لنکس

logo-print

جوہری ہتھیاروں کے خاتمے تک شمالی کوریا پر پابندیاں نافذ رہیں گی، امریکہ


صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان، سنگاپور پر تاریخی ملاقات کے موقع پر۔ 12 جون 2018

اقوام متحدہ کے لئے امریکی سفیر نکی ہیلی نے نامہ نگاروں کو بتایا ہے کہ امریکہ شمالی کوریا کے خلاف اس وقت پابندیوں کے نفاذ سے مسلسل وابستہ ہے جب تک وہ ملک خود کو جوہری طور پر عدم مسلح نہیں کر لیتا ۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں سے متعلق روس کے بلائے گئے بند دروازے کے پیچھے ہونے والے ایک اجلاس میں شرکت سے قبل اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر نکی ہیلی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اگرچہ پیانگ یانگ نے لگ بھگ ایک سال میں کوئی جوہری یا بالسٹک میزائل کا تجربہ نہیں کیا ہے تاہم یہ اس ملک کے خلاف پابندیاں اٹھانے کے لیے کافی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بہت کچھ کیا ہے، صدر اور کم نے ایک سربراہی اجلاس کیا ہے اور وہ ایک اور سربراہی اجلاس کے انعقاد کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ پومپیو متعدد اجلاس کرتے رہے ہیں۔ ہم نے فوجی مشقیں ختم کر دی تھیں اور ہم اب تک انہیں بہت سی مراعات دے چکے ہیں اور کیوں کہ انہوں نے ابھی تک پابندیوں سے چھٹکارا پانے کے لیے کوئی ضمانت نہیں دی ہے اس لیے ہمیں اپنی بات منوانے کے لیے سختی کرنا ہو گی۔

ہیلی نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو اور شمالی کوریا کے ایک سینیر عہدے دار کے درمیان منسوخ شدہ مذاكرات امکانی طور از سر نو طے ہو ں گے اور انہیں ابھی تک توقع ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے سال کے شروع میں شمالی کوریا کے لیڈر کم یانگ ان کے ساتھ ملاقات کریں گے۔

نکی ہیلی نے مزید کہا کہ اگر آپ قرار دادوں کو اور انہیں وضع کرنے کے انداز کو دیکھیں، تو ان کا مقصد خصوصی طو ر پر وسیع تباہی کے ہتھیاروں اور بالسٹک میزائلوں سے امن اور سلامتی کو لاحق خطرے سے نمٹنا تھا۔ وہ خطرہ ابھی تک وہاں موجود ہے، ان کے پاس وہاں ابھی تک اپنی تنصیبات موجود ہیں، انہوں نے ابھی تک انسپکٹروں کو جوہری تنصيب یا بالسٹک میزائلوں کی تنصيب میں جانے اور ان کے معائنے کی اجازت نہیں دی ہے۔

ہیلی نے مزید کہا کہ واشنگٹن ماسکو کو شمالی کوریا پر عائد پابندیاں توڑنے ہوئے دیکھ چکا ہے اور انہوں نے اس اجلاس کو روس کی جانب سے پیانگ یانگ کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی ایک کوشش قرار دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG