رسائی کے لنکس

شمالی کوریا اور امریکہ سربراہی ملاقات کی کوششوں کا آغاز


پیانگ یانگ میں ایک فوجی پریڈ کے دوران دور مار جوہری میزائل کی نمایش کی جا رہی ہے۔ فائل فوٹو

سویڈن میں شمالی کوریا کے وزیر خارجہ لی یانگ ہو کے ساتھ ہفتے کے روز مذاکرات بحال ہو رہے ہیں جن کے دورے کے بارے میں کچھ عالمی مبصروں کا کہنا ہے کہ اس سے امریکہ اور شمالی کوریا کے راہنماؤں کے درمیان ملاقات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

اسٹاک ہوم میں ہونےوالے صورت حال کا علم رکھنے والے ذرائع کے مطابق ان مذاکرات کو ابتدائی طور پر جمعے کو ختم ہونا تھا۔

جمعے کے روز اقوام متحدہ میں سویڈن کے سفیرالوف سکوگ نے کہا کہ ان کا ملک ان مذاکرات کی میزبانی کر کے جزیرہ نما کوریا میں کشیدگیوں کو کم کرنے میں مدد کی کوشش کر رہا ہے۔

سویڈن کے وزیر خارجہ اور سٹیفن لوفوین نے جمعے کے روز اسٹاک ہوم میں مختصر ملاقات کی لیکن سکوگ اور سٹیفن لوفوین کے ترجمان نے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ ان دونوں راہنماؤں نے کس بارے میں گفتگو کی۔

سکوگ نے تاہم مزید کہا کہ اسٹاک ہوم میں مذاکرات ایسی کسی ملاقات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد کریں گے اور ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا سویڈن امریکہ اور شمالی کوریا کے راہنماؤں کے درمیان کسی ملاقات کی میزبانی کرے گا تو انہوں نے اس پر کسی تبصرے سے انکار کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم صرف جزیرہ نما میں کشیدگی کم کرنے میں مدد کی کوشش کر رہے ہیں۔

جمعے کے روز وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیانگ یانگ کے جوہری پروگرام پر شمالی کوریا کے لیڈر کم یان ان کے ساتھ گفت و شنید کے لیے مئی کے آخر تک ملاقات کےا پنے منصوبے کی از سر نو توثیق کر دی ہے۔

جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے شمالی کوریا میں حالیہ پیش رفت کے حوالے سے محتاط خوش امیدی کا اظہار کیا۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ دونوں راہنماؤں نے اپنے آئندہ کے مذاکرات کی تیاریوں کے بارے میں گفتگو کی اور اس بات پر اتفاق رائے ہوا کہ جزیرہ نما کوریا کو جوہری طور پر کسی بھی انداز سے عدم مسلح کرنے کے لیے صرف لفظی ہی نہیں بلکہ ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ تاہم شمالی کوریا نے ملاقات کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی ہے اور نہ ہی اس کےلیے کسی مخصوص وقت یا مقام کا تعین کیا گیا ہے۔

جنوبی کوریا کے پریس سیکرٹری یون یانگ چھان نے کہا کہ مون نے عہد کیا کہ جب وہ اپریل میں شمالی کوریا کے لیڈر سے ملاقات کریں گے تو وہ امریکہ اور شمالی کوریا کے سربراہی اجلاس کے ایک کامیاب آغاز کے لیے ایک فضا تشکیل دیں گے۔

جنوبی کوریا نے کہا کہ مون نے جمعے کے روز فون پر جاپانی وزیر اعظم شنزو ایبے سے بھی بات کی جنہوں نے شمالی کوریا اور جاپان کے درمیان مذاکرات کے امکان کی توقع کا اظہار کیا۔ جنوبی کوریا کے ایک ترجمان نے کہا کہ دونوں راہنما شمالی کوریا کو جوہری طور پر عدم مسلح کرنے کے لئے اپنے درمیان تعاون بڑھانے اور باہمی طور پر اور امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے پر متفق ہو ئے۔

آئندہ ہونے والے سر براہی اجلاس کے بارے میں جمعے کے روز واشنگٹن میں جنوبی کوریا، جاپان اور امریکہ کے اعلیٰ سطح کے سفارت کاروں نے بھی گفتگو کی۔

جنوبی کوریا کی وزیر خارجہ کانگ اور ان کے جاپانی ہم منصب تارو کونو نے امریکی نائب وزیر خارجہ جون سولیون سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جو اس ہفتے کے شرو ع میں ریکس ٹلرسن کی برطرفی کے بعد قائم مقام وزیر خارجہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG