رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا بظاہر جوہری تجربہ کرنے کے لیے تیار ہے: رپورٹ


فائل فوٹو

سائٹ کے مطابق سیٹیلائیٹ سے لی گئی تصاویر میں تنصیب کے خاص طور پر شمالی حصے میں نئی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں۔

شمالی کوریا کی جوہری تجربے کرنے کی تنصیب کی سیٹیلائیٹ سے حاصل کردہ تصاویر سے ماہرین کا خیال ہے کہ یہاں ہونے والی سرگرمی ظاہر کرتی ہیں کہ پیانگ یانگ جوہری ہتھیاروں کا تجربہ کر سکتا ہے۔

یہ بات واشنگٹن میں جان ہاپکنز یونیورسٹی کے یو ایس-کوریا انسٹیٹیوٹ نے جمعہ کو بتائی۔

شمالی کوریا کی ہتھیاروں سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے انسٹیٹیوٹ کی مختص کردہ ویب سائٹ "38 نارتھ" کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پیانگ یانگ کی طرف سے حکم ملتے ہی کسی بھی وقت یہ تنصیب جوہری تجربہ کرنے کے قابل ہے۔

سائٹ کے مطابق سیٹیلائیٹ سے لی گئی تصاویر میں تنصیب کے خاص طور پر شمالی حصے میں نئی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں۔

ان تصاویر میں سرنگوں میں استعمال ہونے والی چار گاڑیاں، آلات سے لدا ایک چھوٹا ٹرک اور خیمہ دکھائی دیتا ہے جس میں نیچے دیگر آلات رکھے ہو سکتے ہیں۔

مزید برآں انتظامیہ کے مرکزی دفتر کے علاقے میں ایک چھوٹا ٹرک یا وین بھی کھڑی ہے جس کے ساتھ بعض "نامعلوم اشیا اور سرگرمیاں" دیکھی گئی ہیں۔ مبصرین کے بقول یہ مختلف آلات ہو سکتے ہیں۔

شمالی کوریا 2006ء سے پانچ جوہری تجربات کر چکا ہے جس میں سے دو گزشتہ سال کیے گئے تھے۔

یہ ملک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے جوہری اور بیلسٹک میزائلوں سے متعلق عائد پابندیوں کی مسلسل خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے اور اس کے اقدام کو خطے میں کشیدگی اور عالمی امن کے لیے خطرہ تصور کر کے امریکہ سمیت مغربی ممالک تحفظات کا اظہار کرتے آ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG