رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا نے اپنے ایٹمی تجربات کے مقام کو تباہ کر دیا


شمالی کوریا کے ایٹمی تجربات کا مقام جسے تباہ کر دیا گیا۔ فائل

اپنے عہد کے مطابق، شمالی کوریا نے جمعرات کے روز اُس سرنگ کو تباہ کر دیا ہے جو ایٹمی تجربات کیلئے استعمال کی جاتی رہی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق، شمالی کوریا نے یہ فیصلہ جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کم کرنے اور امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات سے متعلق ابہام کو دور کرنے کیلئے کیا ہے۔

ایٹمی تجربات کا یہ مقام شمالی کوریا کے شمال مشرقی علاقے میں ’مین ٹیپ‘ نامی پہاڑ کی چوٹی کے نیچے ’پونگیے۔ری‘ کے مقام پر تعمیر کردہ سرنگوں پر مشتمل ہے جہاں شمالی کوریا اپنے چھ ایٹمی تجربات کر چکا ہے۔

ان سرنگوں کو تباہ کرنے کے عمل کا مشاہدہ کرنے کیلئے بین الاقوامی میڈیا کے کچھ نمائندے وہاں موجود تھے جن کا انتخاب خود شمالی کوریا کے حکام نے کیا۔

منہدم کرنے کا یہ عمل مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے شروع ہوا جس میں سرنگ میں دھماکہ کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ سرنگ اور نگرانی کی ایک چوکی گر گئی۔

شمالی کوریا کے حکام نے وہاں موجود میڈیا کو منہدم کرنے کے عمل کی تفصیل بتائی اور پھر الٹی گنتی شروع کی گئی جس کے بعد دھماکہ ہوا۔ کوریائی ذرائع ابلاغ کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں ’مین ٹیپ‘ پہاڑ کی چوٹی لرز اُٹھی اور پتھر اور سرنگ کا ملبہ باہر آ کر گرنے لگا۔

اسی انداز میں دوسری اور پھر تیسری سرنگ تباہ کر دی گئی جس کے ساتھ ہی نگرانی کی دوسری چوکی بھی تباہ ہوگئی۔ جنوبی کوریا کے میڈیا کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے پانچ گھنٹے کے بعد فوج کی دو بیرکوں کو بھی تباہ کیا گیا۔

مبصرین ایٹمی تجربات کے اس مقام کو تباہ کرنے کے اقدام کو اہم قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کا مقصد شمالی اور جنوبی کوریا کے ساتھ ساتھ امریکہ کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنا ہے۔

شمالی کوریا نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ جوہری ہتھیاروں اور میزائلوں کے تجربات بند کر دے گا اور ان تجربات کے مقام کو بھی تباہ کر دے گا اور اپنی توجہ اقتصادی ترقی اور امن پر مرکوز کرے گا۔

تاہم، حالیہ دنوں میں 12 جون کو صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن کے درمیان سنگاپور میں ہونے والی مجوزہ سربراہ ملاقات کے حوالے سے کچھ شبہات پیدا ہونے لگے۔ شمالی کوریا نے یک طرفہ طور اپنے جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے کے امریکی مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔

گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کو تسلی دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی سمجھوتے کے نتیجے میں کم جونگ اُن کی سیکیورٹی کی ضمانت دی جائے گی اور شمالی کوریا کے لیڈر کو لیبیا کے سابق سربراہ معمر قذافی جیسے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

تاہم، امریکہ کی طرف سے لیبیا کے لیڈر معمر قذافی کی مثال کے حوالے سے شمالی کوریا نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کےلیڈر کم جونگ اُن معمر قذافی نہیں ہیں اور امریکہ کو یہ بات سمجھ لینی چاہئیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG