رسائی کے لنکس

logo-print

'امریکہ نے شیطانی حرکتیں جاری رکھیں تو ملاقات نہیں ہوگی'


جنوبی کوریا کے ایک ریلوے اسٹیشن پر نصب ٹی وی اسکرین پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کی متوقع ملاقات سے متعلق رپورٹ نشر ہو رہی ہے (فائل فوٹو)

شمالی کوریا کے نائب وزیرِ خارجہ چو سون ہی نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر کے ساتھ ملاقات کی شمالی کوریا کو کوئی ضرورت نہیں۔

شمالی کوریا نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اپنی "شیطانی حرکتیں" جاری رکھیں تو وہ کم جونگ ان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان طے شدہ ملاقات کے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے گا۔

شمالی کوریا کے نائب وزیرِ خارجہ چو سون ہی نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر کے ساتھ ملاقات کی شمالی کوریا کو کوئی ضرورت نہیں۔

شمالی کوریا کے نائب وزیرِ خارجہ نے یہ بیان امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس کے ایک بیان کے جواب میں دیا ہے جس میں انہوں نے کم جونگ ان کو خبردار کیا تھا کہ وہ سربراہی ملاقات سے قبل امریکہ کے ساتھ کھلواڑ کرکے "بہت بڑی غلطی" کررہے ہیں۔

پیر کو امریکی نشریاتی ادارے 'فوکس نیوز' کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا نے اپنے جوہری ہتھیاروں سے متعلق کوئی معاہدہ نہ کیا تو اس کا انجام لیبیا جیسا ہوسکتا ہے۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے کے باوجود لیبیا آمر حکمران معمر قذافی کے قتل کے بعد سے بدترین سیاسی اور سماجی بحران کا شکار ہے اور ملک میں خانہ جنگی جاری ہے۔

جمعرات کو اپنے ردِ عمل میں شمالی کوریا کے نائب وزیرِ خارجہ نے مائیک پینس کے بیان کو "بلا سوچے سمجھے اور توہین آمیز" قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

چو سون ہی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہیں سخت حیرت ہے کہ ایسا بے وقوفانہ اور حقائق کے منافی بیان ایک امریکی نائب صدر کی زبان سے ادا ہوا ہے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری بیان میں نائب وزیرِ خارجہ نے مزید کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ سے مذاکرات کی بھیک نہیں مانگے گا اور اگر امریکہ شمالی کوریا کے ساتھ بیٹھنا نہیں چاہتا تو اسے ملاقات پر آمادہ کرنے کی زحمت بھی نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ آئندہ ہفتے تک یہ واضح ہوجائے گا کہ آیا 12 جون کو سنگاپور میں کم جونگ ان کے ساتھ ان کی طے شدہ ملاقات شیڈول کے مطابق ہوگی یا نہیں۔

صدر ٹرمپ اس سے قبل یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر 12 جون کو ملاقات نہ ہوسکی تو ملاقات کو کسی آئندہ تاریخ تک موخر کیا جاسکتا ہے۔

شمالی کوریا حال ہی میں یہ عندیہ دے چکا ہے کہ اگر امریکہ نے اس کے بقول یک طرفہ طور پر اس سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کا مطالبہ جاری رکھا تو وہ سربراہی ملاقات منسوخ کرسکتا ہے۔

بدھ کو امریکی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی میں ہونے والی ایک سماعت کے دوران وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ انہیں قوی امید ہے کہ سربراہی ملاقات طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوگی۔ لیکن ان کے بقول اس ملاقات کا انحصار "چیئرمین کِم پر ہے۔"

پومپیو نے – جو کم جونگ ان سے دو ملاقاتیں کرچکے ہیں –قانون سازوں کو بتایا تھا کہ شمالی کوریا کے معاملے پر امریکہ کا موقف تبدیل نہیں ہوا اور جب تک امریکہ کو شمالی کوریا کی جانب سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے قابلِ اعتبار اقدامات نظر نہیں آتے اس پر اقتصادی پابندیاں کم نہیں کی جائیں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG