رسائی کے لنکس

امریکی طالبِ علم پر تشدد نہیں کیا، شمالی کوریا


امریکی طالبِ علم کی آخری رسومات ریاست اوہایو کے شہر وایومنگ میں جمعرات کو ادا کی گئیں

گزشتہ ہفتے شمالی کوریا نے 22 سالہ وارم بیئر کو "کومے" کے حالت میں رہا کیا تھا اور وہ امریکہ پہنچنے کے چند روز بعد انتقال کرگیا تھا۔

شمالی کوریا کی حکومت نے اس امریکی طالبِ عالم پر دورانِ حراست تشدد کرنے کی تردید کی ہے جو رہائی کے چند روز بعد ہی انتقال کرگیا تھا۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'کے سی این اے' نے جمعے کو اپنی ایک رپورٹ میں امریکہ اور جنوبی کوریا پر جوابی الزام عائد کیا ہے کہ وہ طالبِ علم کے ساتھ بدسلوکی کا الزام عائد کرکے شمالی کوریا کو بدنام کرنے کی مہم چلارہے ہیں۔

امریکہ کی یونیورسٹی آف ورجینیا کے طالبِ علم اوٹو وارم بیئر کو شمالی کوریا کے حکام نے گزشتہ سال حراست میں لیا تھا جس کے بعد انہیں مارچ 2016ء میں شمالی کوریا کی ایک عدالت نے 15 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

گزشتہ ہفتے شمالی کوریا نے 22 سالہ وارم بیئر کو "کومے" کے حالت میں رہا کیا تھا اور وہ امریکہ پہنچنے کے چند روز بعد انتقال کرگیا تھا۔

امریکہ میں وارم بیئر کا طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ امریکی طالبِ علم کو شدید ذہنی چوٹ لگی تھی جس کےباعث وہ کوما میں چلا گیا تھا۔

امریکی طالبِ علم کے لواحقین کا کہنا ہے کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ وارم بیئر مارچ میں سزا سنائے جانے کے بعد سے ہی کومے میں تھا۔

اپنی رپورٹ میں شمالی کوریا کی نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ پیانگ یانگ حکومت نے دورانِ حراست امریکی طالبِ علم کے ساتھ اپنے قانون اور بین الاقوامی ضابطوں کے مطابق سلوک کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبِ علم کی ہلاکت کا سب سے زیادہ نقصان شمالی کوریا کو ہوا ہے کیوں کہ اس کی آڑ میں امریکہ اور جنوبی کوریا نے اس کے خلاف مہم شروع کردی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG