رسائی کے لنکس

شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل کی جاپان پر پرواز


تجرباتی پرواز کے دوران میزائل جاپان کے شمالی جزیرے ہوکیڈو کے اوپر سے بھی گزرا جس نے خطے میں امریکہ کے اتحادیوں میں تشویش کی لہر دوڑادی ہے۔

شمالی کوریا کی جانب سے فائر کیے جانے والا ایک میزائل جاپان کی فضائی حدود سے گزرا ہے جس کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

جنوبی کوریا کی مسلح افواج کے مطابق شمالی کوریا نے منگل کو علی الصباح درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ایک میزائل کا تجربہ کیا جس نے جاپان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔

جنوبی کوریا کی فوج کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے فائر کیا جانے والا نیا میزائل 550 کلومیٹر کی بلندی تک گیا اور 2700 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد شمالی بحرالکاہل میں گر کر تباہ ہوگیا۔

اس تجرباتی پرواز کے دوران میزائل جاپان کے شمالی جزیرے ہوکیڈو کے اوپر سے بھی گزرا جس نے خطے میں امریکہ کے اتحادیوں میں تشویش کی لہر دوڑادی ہے۔

یہ شمالی کوریا کی جانب سے جاپان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا تیسرا اور پیانگ یانگ کے کسی میزائل کے جاپان کی حدود سے گزرنے کا پہلا واقعہ ہے۔

اس سے قبل 1998ء اور 2009ء میں شمالی کوریا کے راکٹ جاپان کی فضائی حدود سے گزرے تھے لیکن دونوں بار شمالی کوریا نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ راکٹ مصنوعی سیارے خلا میں لے جارہے تھے۔

شمالی کوریا نے یہ نیا میزائل تجربہ ایسے وقت کیا ہے جب اس کے قریبی سمندر میں امریکہ اورجنوبی کوریا کی افواج کی جنگی مشقیں جاری ہیں۔

جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق شمالی کوریا نے حالیہ چند ماہ کے دوران میزائل تجربات تیز کردیے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تیزی سے اپنے بین البراعظمی میزائل کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

رواں سال شمالی کوریا اب تک 13 میزائل تجربات کرچکا ہے اور اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کی شدید مذمت اور پابندیوں کے باوجود اس کی جانب سے میزائل تجربات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

منگل کے تجربے اور اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جاپان نے سخت مذمت کی ہے۔

جاپان کے وزیرِ اعظم شنزو ایبے نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کی یہ حرکت ایک ایسا سنگین خطرہ ہے جو اس سے پہلے پیش نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جاپان کے عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔

جاپانی حکام نے کہا ہے کہ میزائل کی ہکیڈو کے اوپر پرواز سے کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ میزائل کی پرواز سے قبل جزیرے کے رہائشیوں کو ان کے موبائل فونز پر "خطرے" کا پیغام بھیج دیا گیا تھا جن میں لوگوں سے گھروں میں رہنے کی درخواست کی گئی تھی۔

خطے میں امریکہ کے دوسرے بڑے اتحادی اور شمالی کوریا کے پڑوسی ملک جنوبی کوریا نے میزائل تجربے کی سخت مذمت کرتے ہوئے پیانگ یانگ کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے اشتعال انگیزی جاری رکھی تو اس کےخلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

صورتِ حال پر غور کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس منگل کی شام طلب کرلیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG