رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا کی حکمران جماعت کا غیر معمولی اجلاس


اجلاس میں اہم رہنما شریک ہیں اور یہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس میں کئی اہم عہدوں پر ردوبدل دیکھنے میں آسکتا ہے۔

شمالی کوریا میں حکمران جماعت 'ورکرز پارٹی' کا 36 سالوں میں سب سے بڑا اجلاس جمعہ کو شروع ہوا اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس ملک کے قائد کم جونگ اُن اس میں اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اظہار کریں گے۔

پیانگ یانگ میں منعقد ہونے والے اجلاس کی کوریج کے لیے آنے والے غیر ملکی نامہ نگاروں کو فوری طور پر داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔

امریکہ اور اس کے ایشیائی اتحادی اس اجلاس کے تناظر میں جزیرہ نما کوریا کی صورتحال پر قریبی رابطے میں ہیں۔

اجلاس میں اہم رہنما شریک ہیں اور یہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس میں کئی اہم عہدوں پر ردوبدل دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

واشنگٹن کا خیال ہے کہ شمالی کوریا اس موقع پر میزائل یا جوہری تجربہ بھی کر سکتا ہے۔

جمعرات کو محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ "ہم ان (شمالی کوریا) پر دباؤ ڈالنے اور بڑھانے کے طریقوں پر غور کر رہے ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ ہم اس بات کو بھی یقینی بناتے ہیں کہ جزیرہ نما کی سلامتی غیر متزلزل رہے۔"

پیانگ یانگ نے حالیہ مہینوں میں چند بیلسٹک میزائل کے تجربے کیے جب کہ جنوری میں اس نے چوتھا جوہری تجربہ کیا تھا۔

مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ امریکہ شمالی کوریا کی حکومت کی طرف سے کشیدگی کو کم کرنے کے کسی بھی اشارے کا خیرمقدم کرے گا۔

امریکہ کی نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے رواں ہفتے سیول کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے جنوبی کوریا کے وزیر دفاع ہان من کو سے ملاقات میں سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

اس ملاقات میں شمالی کوریا کی طرف سے ممکنہ پانچویں جوہری تجربے پر بھی بات چیت کی گئی۔

شمالی کوریا یہ دھمکیاں دیتا آرہا ہے کہ وہ ایک اور جوہری تجربہ کرے گا جب کہ اس نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ امریکہ اور جنوبی کوریا پر جوہری حملہ کرنے میں پہل کر سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG