رسائی کے لنکس

logo-print

'میزائل تجربات کم جونگ اُن کی نگرانی میں ہوئے'


جنوبی کوریا کے رہنما کم کی جانب سے میزائلوں کی نگرانی

شمالی کوریا نے جمعہ کی صبح بیلسکٹ میزائل کے جو تجربات کیے تھے اُن کی نگرانی خود وہاں کے صدر کم جونگ ان نے کی تھی۔ اس بات کا انکشاف سرکاری میڈیا کے ذریعے ہفتے کی صبح سامنے آنے والی خبروں میں کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا نے جمعہ کو مختصر فاصلے تک مار کرنے والے دو بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا تھا۔

جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے جولائی کے وسط سے اب تک میزائلوں کے چھ تجربات کیے جاچکے ہیں۔

میزائل تجربات نے امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے لیے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ شمالی کوریا کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے اسٹیفن بائیگن اگلے ہفتے جاپان اور جنوبی کوریا کا دورہ کریں گے۔

یہ دورہ شمالی کوریا کو جوہری اسلحے سے پاک کرنے کی مربوط کوششوں کا حصہ ہے۔

امریکی نمائندے کے دورے کی خبر ایسے موقع پر آئی ہے جب گزشتہ ہفتے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے اُن سے جوہری توانائی کے خاتمے سے متعلق گفتگو پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے رہنما کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں کے رکتے ہی وہ بھی میزائل تجربات روک دیں گے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا کی گزشتہ ہفتے سے جاری مشترکہ فوجی مشقوں پر شمالی کوریا کو اعتراض ہے۔ شمالی کوریا نے ان مشقوں کو 'جنگ کی تیاری' قرار دیا ہے۔

ادھر سیول کی وزارت دفاع کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا 10 اگست جیسے مزید میزائل تجربات کرسکتا ہے۔ پیانگ یانگ نے ان تجربات کو 'نئے ہتھیاروں' کا نام دیا تھا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان شمالی کوریا کو غیر جوہری بنانے سے متعلق مذاکرات اس ماہ کے آخر میں ہونا ہیں تاہم یہ مذاکرات 30 جون سے معطلی کا شکار ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG